اسلام آباد: حکومت نے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ایسی بڑی تبدیلی کر دی ہے جس نے سولر پینلز پر سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نئی ترامیم کے تحت صارفین کی خون پسینے کی کمائی سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی اب حکومت کو "صفر قیمت" پر فراہم کی جائے گی۔اب گرڈ کو دی جانے والی اضافی بجلی سسٹم میں تو جائے گی مگر صارف کے بل میں اس کا کوئی کریڈٹ یا پیسہ شامل نہیں ہوگا۔
حکومت نے "ایکسپورٹ ایم ڈی آئی" کا نیا طریقہ کار نافذ کر کے صارفین کی بجلی کی ترسیل کو کنٹرول کر لیا ہے، جس کا مقصد مفت بجلی کا حصول ہے۔
منظور شدہ لوڈ سے زائد پینلز لگانے والوں کے لیے یونٹس پر چھوٹ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، یعنی اب اضافی پینلز کا فائدہ صرف حکومت کو پہنچے گا۔اس فیصلے کو سولر صارفین نے اپنے ساتھ "دھوکا" قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے لاکھوں روپے لگا کر سسٹم لگوائے تو پالیسی کچھ اور تھی، مگر اب جب وہ بجلی پیدا کر رہے ہیں تو حکومت ان سے مفت بجلی بٹورنے کے لیے قوانین بدل رہی ہے۔
سولر صارفین کے ساتھ ہاتھ ہو گیا: نیٹ میٹرنگ کی مراعات ختم، عوام کی بجلی حکومت کو "مفت" دینے کا قانون نافذ
07:51 PM, 1 Apr, 2026