پنجاب پولیس میں پہلی بار باڈی ورن کیمروں کا استعمال شروع، لاہور سے منصوبے کا آغاز

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے محفوظ پنجاب ویژن کے تحت صوبے میں پولیسنگ کو جدید، مؤثر اور ...

خیبرپختونخوا میں ہڑتالیں، وزیراعلیٰ کابینہ سمیت لاہور میں سیر سپاٹوں میں مصروف ہیں: عظمیٰ بخاری

لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خیبرپختونخوا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ...

لاہور(شاہد رضوی)پریشر ہارن کے استعمال اور فضائی آلودگی کا باعث بننے والی گاڑیوں کے خلاف ٹریفک پولیس نے سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔ ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے صوبے بھر میں پریشر ہارن کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا، جبکہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے ڈرائیورز کے ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے جائیں گے۔

 ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے تمام سی ٹی اوز اور ڈی ٹی اوز کو ہدایت کی ہے کہ پریشر ہارن کے استعمال پر بلاامتیاز کارروائی یقینی بنائی جائے۔ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، ایمرجنسی سینٹرز اور دیگر ممنوعہ مقامات پر ہارن کے استعمال کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

 حکام کے مطابق بلاوجہ مسلسل اور بار بار ہارن بجانے والوں کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔ رواں سال پریشر ہارن اور مسلسل ہارن کے غلط استعمال پر 3 لاکھ 83 ہزار سے زائد شہریوں کے چالان کیے جاچکے ہیں، جبکہ لاہور ٹریفک پولیس نے ہارن کے غلط استعمال پر 48 ہزار شہریوں کو چالان ٹکٹس جاری کیے۔

 دوسری جانب سموگ تدارک مہم کے تحت سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اب سموکی وہیکلز کے ڈرائیورز کے ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے جائیں گے، جبکہ کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ روٹ پرمٹ بھی معطل کیا جائے گا۔

 حکام کے مطابق بغیر ترپال مٹی اور ریت لانے والی ٹرالیوں اور ڈمپرز کا لاہور شہر میں داخلہ ممنوع ہے۔ سموگ تدارک مہم کے دوران بغیر ترپال ڈھانپے ریت، مٹی اور دیگر آلودگی کا باعث بننے والی 3 ہزار 752 گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے۔

 سموگ مہم کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ 54 ہزار 890 گاڑیوں کو چالان ٹکٹس جاری کیے گئے، جبکہ سموکی وہیکلز کی درستگی کے لیے متعدد سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو بھی مراسلے ارسال کیے گئے ہیں۔

 ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی جاری رہے گی۔

لاہور: مینجنگ ڈائریکٹر پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) احمد عثمان جاوید نے باغ جناح لاہور کا دورہ کیا اور پارک کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔

 ایم ڈی پی ایچ اے نے گلستانِ فاطمہ سمیت باغ جناح کے مختلف لانز کا دورہ کیا۔ انہوں نے بارہ دری، لان ٹینس کلب، کاسمو کلب اور لیڈیز کلب کا بھی معائنہ کیا اور متعلقہ افسران کو پارک میں سہولیات مزید بہتر بنانے کی ہدایات جاری کیں۔

 اس موقع پر احمد عثمان جاوید نے ہدایت کی کہ بارہ دری کی اپ گریڈیشن کے لیے جامع منصوبہ تیار کیا جائے، جبکہ لان ٹینس کلب میں شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

 انہوں نے بچوں کے جھولوں کی دوبارہ پینٹنگ اور پارک کے لانز میں نئے پودے اور خوبصورت پھول لگانے کی بھی ہدایت کی، تاکہ باغ جناح کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کیا جاسکے۔

 پراجیکٹ ڈائریکٹر جلیل احمد نے ایم ڈی پی ایچ اے کو باغ جناح میں جاری ہارٹیکلچر اور دیگر امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

 احمد عثمان جاوید نے ہدایت کی کہ پارک میں صفائی، ہارٹیکلچر اور تفریحی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں۔

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے محفوظ پنجاب ویژن کے تحت صوبے میں پولیسنگ کو جدید، مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے اہم اقدام اٹھایا گیا ہے۔ پنجاب پولیس کی فیلڈ فورس کے لیے پہلی مرتبہ باڈی ورن کیمروں کا باقاعدہ استعمال شروع کردیا گیا ہے۔

 باڈی ورن کیمروں کے منصوبے کا آغاز لاہور سے کیا گیا ہے، جبکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی مرحلہ وار اس پر عملدرآمد جاری ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پولیس اہلکاروں کی فیلڈ میں کارروائیوں کی ریکارڈنگ ممکن ہوگی، جس سے پولیسنگ میں شفافیت اور جوابدہی کے عمل کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

 حکومت پنجاب کے مطابق باڈی ورن کیمروں کا استعمال پولیس اور شہریوں کے درمیان معاملات کو شفاف بنانے کے ساتھ ساتھ پولیس فیلڈ فورس کی کارکردگی کو مؤثر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

لاہور(ادریس شیخ ) ایکسائز ڈپارٹمنٹ میں ایجنٹ مافیا کے خلاف کارروائی مزید سخت کردی گئی ہے۔ ڈائریکٹر ایکسائز ریجن سی جام سراج کے احکامات پر فرید کورٹ ہاؤس سے تمام غیر متعلقہ پرائیویٹ افراد کو باہر نکال دیا گیا۔

فرید کورٹ ہاؤس میں صرف متعلقہ افراد اور سائلین کو مکمل تصدیق کے بعد داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ داخلی دروازے پر شہریوں کی رہنمائی اور تصدیق کے لیے خصوصی کاؤنٹر بھی قائم کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سائل کی گاڑی اور ملکیت سے متعلق معلومات کی مکمل تصدیق کے بعد ہی اسے دفتر میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے، جبکہ کسی بھی ٹاؤٹ یا ایجنٹ کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

شہریوں کی معاونت کے لیے ایک خاتون اور ایک مرد انسپکٹر کو گراؤنڈ ڈیسک پر تعینات کیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر ایکسائز ریجن سی جام سراج نے تمام انسپکٹرز، کانسٹیبلز اور دیگر عملے کو ہدایت کی ہے کہ پرائیویٹ افراد کے غیرضروری داخلے اور کرپشن کو کسی صورت برداشت نہ کیا جائے۔

لاہور(  احمد قریشی ) محکمہ اوقاف پنجاب نے مزارات کی سکیورٹی اور انتظامی امور کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کے لیے 24 گھنٹے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ کرلیا۔

پہلے مرحلے میں 10 ماڈل مزارات کو ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک کردیا گیا ہے، جہاں 128 کیمروں کے ذریعے مزارات کی بیک وقت لائیو مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر لاہور اور ملتان کے 4،4 مزارات کو ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام سے منسلک کیا گیا ہے، جبکہ باقی ماڈل مزارات کو بھی آئندہ دو ماہ میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کا حصہ بنایا جائے گا۔

محکمہ اوقاف کے مطابق جدید نظام کے ذریعے مزارات میں سکیورٹی انتظامات، زائرین کی آمدورفت اور دیگر سرگرمیوں کی 24 گھنٹے نگرانی کی جائے گی۔

ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا نظام مرحلہ وار صوبے کے دیگر اہم مزارات تک بھی وسعت دیا جائے گا۔