پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا اثر، کاروباری مراکز کے نئے اوقات کار مقرر

 اسلام آباد: عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث وفاقی حکومت نے کفایت شعاری ...

’اپنی چھت اپنا گھر‘ منصوبے کی اقوام متحدہ ایوارڈ کے لیے نامزدگی پنجاب کے عوام کے لیے اعزاز ہے: عظمیٰ بخاری

 لاہور: صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم ...

ملتان: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نشتر ہسپتال ملتان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کوابلیشن اور کینسر سنٹر کا افتتاح کیا اور پیٹ سی ٹی سائیکلوٹرون سنٹر کا معائنہ کیا۔

 مریم نواز نے کوابلیشن مشین کے ذریعے کینسر کا علاج کرانے والی پہلی مریضہ مسرت ارشد سے ملاقات کی۔ کمالیہ سے تعلق رکھنے والی 55 سالہ مسرت ارشد کامیاب علاج کے بعد وزیراعلیٰ سے ملاقات کے دوران جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور رو پڑیں۔

 وزیراعلیٰ نے میاں چنوں کی 24 سالہ مریضہ نسرین کی بھی عیادت کی اور اس سے پیار و شفقت کا اظہار کیا۔

 دورے کے دوران مریم نواز نے ہسپتال میں طبی سہولیات کا جائزہ لیا اور جدید کینسر علاج کے مراکز کے بارے میں بریفنگ حاصل کی۔ وزیراعلیٰ عوام کے درمیان بھی گئیں، شہریوں سے ملاقات کی اور ان سے گفتگو کی۔

 اسلام آباد: عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث وفاقی حکومت نے کفایت شعاری اقدامات مزید سخت کرتے ہوئے کاروباری مراکز کے اوقات کار مقرر کردیئے۔

 وفاقی حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے بند ہوں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے بند کرنا ہوں گے۔

 ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار کی اجازت ہوگی۔ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز کے علاوہ فارمیسیز، اسپتال، کلینکس، لیبارٹریز اور پٹرول پمپس کو اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

 حکومت نے بیکریز، تندور، دودھ و ڈیری شاپس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور جم کو بھی استثنیٰ دے دیا ہے۔

 وفاقی حکومت کے مطابق نئے اقدامات کا مقصد پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کے پیش نظر ایندھن اور توانائی کے استعمال میں کمی لانا ہے۔

لاہور(اویس گجر)پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے غیر معیاری انفراسٹرکچر اور مختلف بے ضابطگیوں پر 17 پارٹنر سکولوں کے معاہدے منسوخ کردیے۔
 پیف کی جانب سے پارٹنر سکولوں کی مانیٹرنگ کے دوران مختلف خلاف ورزیاں اور بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جس پر متعلقہ سکولوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔
 مانیٹرنگ کے دوران خستہ حال اور خطرناک عمارتوں میں قائم بعض پارٹنر سکولوں کی نشاندہی بھی ہوئی۔ حکام کے مطابق طلبہ کے لیے غیر محفوظ ماحول فراہم کرنے والے سکولوں کے خلاف قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔
 پیف حکام کا کہنا ہے کہ پارٹنر سکولوں کی مانیٹرنگ کا مقصد تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے محفوظ اور مناسب تعلیمی ماحول کو یقینی بنانا ہے۔

لاہور: محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی پنجاب نے گاڑیوں کے دھویں اور فضائی آلودگی کی نگرانی کیلئے جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا۔

 منصوبے کے تحت لاہور کے 9 اہم داخلی و خارجی راستوں پر وہیکلر ایمیشن اسکیننگ سسٹم نصب کیا جائے گا۔ وہیکلر ایمیشن سکیننگ سسٹم کے ذریعے سڑک پر چلتی گاڑیوں کے دھویں کی غیر مداخلتی ٹیکنالوجی کے ذریعے موقع پر ہی سکیننگ کی جائے گی۔

 جدید ریموٹ سینسنگ ڈیوائسز گاڑی کو روکے بغیر اس کے اخراج میں موجود آلودگی اور مضر اجزا کی پیمائش کریں گی۔

 محکمہ ماحولیات کے مطابق جدید نظام کے ذریعے فضائی آلودگی کا سبب بننے والی گاڑیوں کی نشاندہی اور اخراج کی نگرانی مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

لاہور(شاہد رضوی)پریشر ہارن کے استعمال اور فضائی آلودگی کا باعث بننے والی گاڑیوں کے خلاف ٹریفک پولیس نے سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔ ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے صوبے بھر میں پریشر ہارن کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا، جبکہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے ڈرائیورز کے ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے جائیں گے۔

 ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے تمام سی ٹی اوز اور ڈی ٹی اوز کو ہدایت کی ہے کہ پریشر ہارن کے استعمال پر بلاامتیاز کارروائی یقینی بنائی جائے۔ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، ایمرجنسی سینٹرز اور دیگر ممنوعہ مقامات پر ہارن کے استعمال کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

 حکام کے مطابق بلاوجہ مسلسل اور بار بار ہارن بجانے والوں کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔ رواں سال پریشر ہارن اور مسلسل ہارن کے غلط استعمال پر 3 لاکھ 83 ہزار سے زائد شہریوں کے چالان کیے جاچکے ہیں، جبکہ لاہور ٹریفک پولیس نے ہارن کے غلط استعمال پر 48 ہزار شہریوں کو چالان ٹکٹس جاری کیے۔

 دوسری جانب سموگ تدارک مہم کے تحت سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اب سموکی وہیکلز کے ڈرائیورز کے ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے جائیں گے، جبکہ کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ روٹ پرمٹ بھی معطل کیا جائے گا۔

 حکام کے مطابق بغیر ترپال مٹی اور ریت لانے والی ٹرالیوں اور ڈمپرز کا لاہور شہر میں داخلہ ممنوع ہے۔ سموگ تدارک مہم کے دوران بغیر ترپال ڈھانپے ریت، مٹی اور دیگر آلودگی کا باعث بننے والی 3 ہزار 752 گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے۔

 سموگ مہم کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ 54 ہزار 890 گاڑیوں کو چالان ٹکٹس جاری کیے گئے، جبکہ سموکی وہیکلز کی درستگی کے لیے متعدد سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو بھی مراسلے ارسال کیے گئے ہیں۔

 ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی جاری رہے گی۔