لاہور: پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں صوبے بھر میں ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف گرینڈ آپریشن مزید سخت اور وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (EPA) کی گزشتہ ایک سال کے دوران ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر فیلڈ مانیٹرنگ پر سختی سے عملدرآمد جاری ہے، جبکہ ماحولیاتی قوانین اور ضابطوں پر عملدرآمد سے صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
فصلوں کی کٹائی کے پیش نظر ماحولیاتی فورس اور متعلقہ محکموں کی ٹیموں کا پنجاب بھر میں آپریشن کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
بریفنگ کے مطابق گزشتہ ستمبر میں 68 صنعتی یونٹس کا معائنہ جبکہ 58 صنعتی یونٹس کی ماحولیاتی نگرانی کی گئی۔ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر 18 یونٹس کو نوٹس جاری اور 4 یونٹس سیل کیے گئے۔
30 تعمیراتی مقامات کے معائنے کے دوران خلاف ورزی پر 6 مقامات سیل کیے گئے۔ سنگل یوز پلاسٹک اور پولی تھین کے خلاف 314 انسپیکشنز کی گئیں، 36 مقامات سیل جبکہ 44 کلوگرام پلاسٹک اشیاء ضبط کی گئیں۔ پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لیے کارروائیوں کے دوران لاکھوں روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
گاڑیوں کے مضر دھوئیں کے خلاف کارروائی کے دوران 10 گاڑیاں تحویل میں لی گئیں، 24 چالان کیے گئے جبکہ 24 گاڑیاں سیل کر دی گئیں۔
مریم اورنگزیب نے ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی کہ دھویں اور دیگر ماحولیاتی خلاف ورزیوں کی اطلاع ہیلپ لائن 1373 پر دیں۔