پنجاب حکومت کا لائیوسٹاک سیکٹر کے لیے 5.2 ارب روپے کا میگا پراجیکٹ، دائرہ کار تمام 37 اضلاع تک بڑھانے کی منظوری

06:15 PM, 6 May, 2026

لاہور پنجاب حکومت نے صوبے میں لائیوسٹاک کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک انقلابی منصوبے ’بریڈ ٹرانسفارمیشن ٹو انہانس لائیوسٹاک پروڈکٹیوٹی (فیز-1)‘ کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اس کے بجٹ کو 5 ارب 20 کروڑ 27 لاکھ روپے تک بڑھانے کی منظوری دے دی ہے
سینئر رپورٹر  نمائندہ لاہور رنگ ادریس شیخ کاکہنا ہے کہ  محکمہ لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ کے زیرِ اہتمام شروع کیے گئے اس میگا پراجیکٹ کو جون 2029 تک مکمل کیا جائے گا۔منصوبے کا بنیادی مقصد پنجاب بھر میں کم پیداوار دینے والے مویشیوں کی نسل (بریڈ) کو بہتر بنانا ہے تاکہ صوبے میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں تاریخی اضافہ ممکن ہو سکے۔
 پہلے مرحلے میں یہ منصوبہ صرف 10 اضلاع تک محدود تھا، تاہم اب صوبے کے تمام 37 اضلاع کو اس سہولت سے لیس کیا جا رہا ہے تاکہ چھوٹے فارمرز کو بھی مساوی فوائد مل سکیں۔ مویشیوں کی نسل کشی کے عمل کی سخت نگرانی کے لیے جدید آئی ٹی اور اے آئی (AI) سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (UVAS) لاہور میں ایک جدید ترین ڈیٹا لیب بھی قائم کی جائے گی۔
 جدید جینڈر سورٹڈ سیمن کی وافر فراہمی کی جائے گی، جس کی بدولت مادہ جانوروں کی پیدائش کی شرح موجودہ 50 فیصد سے بڑھ کر 90 فیصد تک چلی جائے گی۔
پروجنی ٹیسٹنگ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ مویشیوں کی تعداد 60 ہزار سے بڑھا کر 1 لاکھ 20 ہزار کر دی گئی ہے۔منصوبے کو فعال بنانے کے لیے 984 نئے اے آئی ٹیکنیشنز (پیراویٹ اسٹاف) اور 13 افسران کو بھرتی کیا جا رہا ہے، جبکہ مصنوعی نسل کشی کے لیے جدید ترین طبی آلات بھی خریدے جا رہے ہیں۔
ترجمان محکمہ لائیوسٹاک کا کہنا ہے  اعلیٰ معیار کے غیر ملکی سیمن اور جدید جینڈر سورٹڈ ٹیکنالوجی کی بدولت پنجاب کے کسانوں کی تقدیر بدل جائے گی اور یہ منصوبہ لائیوسٹاک کی معیشت میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔

مزیدخبریں