لاہور میں 'سیف بسنت' کا آخری روز: فضا رنگ برنگی پتنگوں سے سج گئی، لبرٹی چوک میں جشن کا سماں

03:15 PM, 8 Feb, 2026

لاہور: زندہ دلانِ لاہور نے برسوں بعد بسنت کی بہاروں کو جی بھر کر سمیٹا۔ بسنت کے تیسرے اور آخری روز شہر کی رونقیں اپنے عروج پر پہنچ گئیں، جہاں آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر گیا اور گلی کوچوں میں "بو کاٹا" کے نعروں کی گونج سنائی دیتی رہی۔اتوار کا رخ کرتے ہی لاہوریوں نے چھتوں کا رخ کر لیا۔ فضا میں ہر سائز اور ہر رنگ کی گڈیاں اور پتنگیں تیرتی نظر آئیں۔ بچے ہوں یا بڑے، سبھی اپنے پیچ لڑانے اور حریف کی پتنگ کاٹنے کے لیے جوش و خروش سے مصروف دکھائی دیے۔ بو کاٹا کے نعروں کے ساتھ ساتھ ڈھول کی تھاپ اور جدید میوزک نے جشن کا مزہ دوبالا کر دیا۔
لاہور کا دل کہلانے والا لبرٹی چوک اس وقت خوشی اور موج مستی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد وہاں جمع ہے، جہاں بسنت کو ایک میلے کی شکل دے دی گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے انتظامات اور "سیف بسنت" کے قواعد نے شہریوں کو ایک محفوظ ماحول میں تفریح کا موقع فراہم کیا ہے۔
لاہوریوں کا کہنا ہے کہ وہ اس ایونٹ کو یادگار بنانے کے لیے بھرپور طریقے سے جشن منا رہے ہیں۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس اقدام کو سراہا ہے جس کے ذریعے برسوں بعد لاہور کی ثقافتی پہچان "بسنت" کو ایک نئے اور محفوظ انداز میں واپس لایا گیا ہے۔

مزیدخبریں