گوجرانوالہ : ایپ سپ کے چیئرمین اور معروف ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے ہے، اور ہمیں اپنے نوجوانوں کی تربیت اور فیکلٹی کے کردار پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
گفٹ یونیورسٹی میں ایپ سپ کی جانب سے "2030 کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں" کے عنوان سے منعقد ہونے والے سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا کہ یونیورسٹیوں کا مقصد صرف علم دینا نہیں بلکہ اچھے انسان بنانا بھی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں میں ڈسپلن اور واضح مقصد کی کمی کو پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا، "ہمارا نوجوان راتوں رات امیر بننے کی خواہش میں مبتلا ہے، جو اس کی ذاتی اور اجتماعی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔"
پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کو بہترین رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ "نبی ﷺ کا کردار ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ ہمیں ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں میں تبدیلی لانی چاہیے تاکہ ہم ایک کامیاب اور ترقی یافتہ قوم بن سکیں۔"
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں قیادت کی کمی ہے اور ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو مخلص اور بےلوث ہو۔ پروفیسر عبدالرحمان نے میاں عامر محمود کی پاکستان کے تعلیمی میدان میں خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "میاں عامر محمود نے لاکھوں طلبا کے لیے تعلیمی ادارے قائم کر کے پاکستان کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔"
پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کو پاکستان کے لیے ترقی کے بڑے مواقع قرار دیا اور کہا کہ ان دونوں علاقوں میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کا بہترین امیج پیش کر سکتے ہیں، لیکن افسوس کہ مقامی قیادت کو آگے آنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
آخر میں، پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا کہ "اگر ہم نبی ﷺ کی تعلیمات کو اپنے اندر اور معاشرتی سطح پر اپنائیں تو ہم ایک مضبوط، پُرامن اور ترقی یافتہ پاکستان بنا سکتے ہیں۔"