"پہاڑوں کا عالمی دن" کے موقع پر قدرتی حسن اور ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت پر زور

12:46 PM, 11 Dec, 2025

اسلام آباد:  پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج "پہاڑوں کا عالمی دن" منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد پہاڑی سلسلوں کو ماحولیاتی خطرات سے بچانے اور ان کے قدرتی حسن کی حفاظت کے لیے عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنا ہے۔ پہاڑ نہ صرف ہماری زندگی میں ماحولیاتی توازن کے لیے ضروری ہیں بلکہ یہ قدرتی وسائل اور قدرتی جمال کا بھی خزانہ ہیں، جو ہماری ثقافت اور معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آزاد کشمیر کے برف پوش پہاڑی سلسلے اور پاکستان کے دیگر پہاڑی علاقوں کی قدرتی خوبصورتی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ان علاقوں کی حفاظت کرنا نہ صرف مقامی کمیونٹیز کے لیے بلکہ عالمی سطح پر ہماری ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بلند ترین چوٹیاں عالمی سطح پر پہاڑوں کے شائقین کے لیے چیلنجز اور مہم جوئی کا مرکز ہیں۔ یہاں دنیا کی 24 بلند ترین چوٹیوں میں سے 8 موجود ہیں، جن میں "کے ٹو" بھی شامل ہے، جو 8611 میٹر بلند ہے۔

پاکستان میں تقریباً 108 ایسی چوٹیاں ہیں جو 7,000 میٹر سے بلند ہیں، اور ان میں سے کئی چوٹیاں نہ صرف قدرتی حسن کا حصہ ہیں بلکہ عالمی سطح پر مہم جوئی کے شوقین افراد کے لیے چیلنجز بھی پیش کرتی ہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی "کے ٹو" کو سر کرنا کئی کلائمبرز کے لیے خواب بن چکا ہے، مگر اس کی بلند بلندی اور موسمی حالات کی سختی کی وجہ سے یہ چیلنج انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ اب تک 377 افراد اس چوٹی کو سر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، لیکن اس سفر میں کئی قیمتی جانوں کا بھی نقصان ہو چکا ہے۔

پہاڑوں کا کردار صرف مہم جوئی تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ ہمارے ماحول اور زندگی کے لیے بھی بے حد اہم ہیں۔ پہاڑ نہ صرف جنگلات کی پرورش کرتے ہیں بلکہ برفباری کی شکل میں پانی ذخیرہ کرتے ہیں، جو دریاؤں کے ذریعے ہماری زراعت، پینے کے پانی کی فراہمی، اور توانائی کے لیے اہم ہوتا ہے۔ یہ قدرتی وسائل مستقبل میں ہماری نسلوں کے لیے اہم ہوں گے، اس لیے ہمیں ان کی حفاظت پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔

"پہاڑوں کا عالمی دن" منانے کا مقصد ان قدرتی وسائل کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کی حفاظت کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کی ضرورت کو تسلیم کرنا ہے۔ پہاڑ نہ صرف ایک خوبصورت قدرتی منظر پیش کرتے ہیں بلکہ ہمارے ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم پہاڑوں اور ان کے ماحولیاتی نظام کی حفاظت کریں گے تو آئندہ نسلیں بھی ان قدرتی وسائل کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گی.

مزیدخبریں