اسلام آباد: پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کی جانب ایک انقلابی پیش رفت کرتے ہوئے بٹ کوائن ذخائر قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے کرپٹو منظرنامے کو مستحکم کرے گا بلکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل فنانس کی دنیا میں پاکستان کی موجودگی کو بھی مضبوط بنائے گا۔
وزیر مملکت اور پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹو بلال بن ثاقب کے مطابق، اس منصوبے کے تحت ملک میں موجود بٹ کوائن کو اسٹریٹجک قومی اثاثے کے طور پر ذخیرہ کیا جائے گا۔ ان ذخائر کے ذریعے پاکستان ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) کے پلیٹ فارمز پر سرمایہ کاری کرے گا تاکہ بینکنگ نظام سے ہٹ کر آمدنی کے متبادل ذرائع پیدا کیے جا سکیں۔
بلال بن ثاقب نے انکشاف کیا کہ اس سلسلے میں انہوں نے عالمی شہرت یافتہ کرپٹو ماہر اور مائیکرو اسٹریٹیجی کے بانی مائیکل سیلر سے ملاقات کی ہے، جنہیں پاکستان کے بٹ کوائن ذخائر سے متعلق منصوبے میں مشیر کے طور پر شامل ہونے کی پیشکش کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) مشترکہ طور پر ایک محفوظ، شفاف اور عالمی معیار کا ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیں گے تاکہ کرپٹو اثاثوں کو قانونی اور مؤثر طریقے سے منظم کیا جا سکے۔
نیو یارک کے معروف میڈیا پلیٹ فارم CoinTelegraph نے بھی پاکستان کے اس فیصلے کو ایک مثبت سنگ میل قرار دیا ہے، جو نہ صرف معاشی بہتری بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں خودمختاری کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
بلال بن ثاقب کے مطابق، پاکستان 2024 میں کرپٹو اپنانے کے لحاظ سے دنیا میں نویں نمبر پر رہا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی عوام اور نوجوان نسل ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی جانب تیزی سے مائل ہو رہے ہیں۔
یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کو ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے عالمی مراکز میں شامل کر سکتا ہے، بلکہ ملکی معیشت میں غیر روایتی ذرائع سے آمدن پیدا کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔