پنجاب کا پہلا اے آئی روڈ میپ منظور: 2029 تک جنوبی ایشیا کا 'ٹیکنالوجی حب' بنانے کا ہدف

08:15 PM, 12 Mar, 2026

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی تاریخ کے پہلے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (AI) روڈ میپ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد پنجاب کو 2029 تک جنوبی ایشیا کا معروف اے آئی صوبہ بنانا ہے۔اس انقلابی منصوبے کے تحت پنجاب میں دنیا کا پہلا 'اے آئی ڈیلیوری یونٹ' قائم کیا جائے گا، جس کی براہِ راست نگرانی اور چیئرپرسن خود وزیراعلیٰ مریم نواز شریف ہوں گی۔
صوبائی مشیر برائے اے آئی، علی ڈار نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ اس روڈ میپ پر عملدرآمد سے صوبے کی تقدیر بدل جائے گی۔  اگلے تین سالوں میں ایک لاکھ سے زائد ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔صوبائی معیشت (GDP) میں 5 سے 10 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 10 سے 20 ارب ڈالر تک اضافہ متوقع ہے۔
حکومت نے اے آئی روڈ میپ کے تحت مختلف منصوبوں کی لانچنگ کے لیے ماہانہ اہداف مقرر کر دیے ہیں۔    مارچ: "اے آئی روڈ میپ مینی فیسٹو" کی لانچنگ،    جون: دنیا کے پہلے اے آئی ڈیلیوری یونٹ کی بین الاقوامی سطح پر لانچنگ،    جولائی: اے آئی گورننس پالیسی کا نفاذ،     یوم آزادی کے موقع پر گلوبل ٹیک پارٹنرشپ اور سٹیزن پورٹل کا آغاز،    ستمبر و اکتوبر: ہیلتھ بورڈ ایپ کی لانچنگ اور سموگ پروگرام کو اے آئی سے منسلک کرنا۔    نومبر: کسان اے آئی بوٹ کا قیام (جس میں ایگریکلچر انٹرنز بھی شامل ہوں گے)۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب کے 100 سکولوں میں اے آئی سلیبس پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے، جبکہ اپریل سے مزید 155 سکولوں میں یہ نصاب پڑھایا جائے گا۔ مریم نواز شریف نے ہدایت کی ہے کہ اے آئی ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ میں دنیا کے اعلیٰ ترین ماہرین کو شامل کیا جائے۔
    وزیراعلیٰ  پنجاب  کاکہنا ہےکہ  ہم آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے ذریعے حکومت کے ہر شعبے کی استعداد کار کو بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔

اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ڈیٹا، سٹریٹجک آپریشن اور کمیونیکیشن پر مشتمل چار کراس فنکشنل ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔

مزیدخبریں