لاہور: بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلم خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا ہے، جہاں بھارتی ریاست بہار میں سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے نقاب کی مبینہ طور پر بے حرمتی کی گئی۔ واقعے نے مودی سرکار کے دور میں اقلیتوں کے عدم تحفظ اور نام نہاد انسانی حقوق کے دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک سرکاری تقریب کے دوران مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب زبردستی ہٹایا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی شدید ردعمل سامنے آیا، اور اسے خواتین کی عزت، ذاتی آزادی اور مذہبی وقار پر کھلا حملہ قرار دیا گیا۔
اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ بہار میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور نام نہاد حقوقِ انسانی کے علمبرداروں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظلوم اقلیتوں کے تحفظ کے لیے محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ ایک مضبوط پاکستان اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور بھارت سمیت دنیا بھر میں مظلوم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین اور قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے نیوز کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ ماضی میں بعض عناصر نے نوجوانوں کو انتشار اور مایوسی کی طرف دھکیلا، تاہم پاک فوج نے اپنے اداروں کے اندر احتساب کا عمل شروع کر کے ایک مثال قائم کی۔
چیئرمین یوتھ پروگرام کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے پرعزم ہیں اور حکومت کی جانب سے میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپس، اسکالرشپس اور بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ آج دنیا پاکستان کی طرف متوجہ ہو رہی ہے، غیر ملکی وفود کے دورے اور عالمی معاہدے ملک کے نوجوانوں کے لیے روشن مستقبل کی نوید ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو یقین دلایا کہ پاکستان میں میرٹ، شفافیت اور ترقی کا سفر جاری ہے۔