پنجاب میں سیاحت کے فروغ کے لیے اربوں روپے کے منصوبوں کا اعلان، 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

08:49 PM, 16 Jun, 2026

لاہور: پنجاب حکومت نے سیاحت کو معیشت کا مضبوط ستون بنانے کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر دیا ہے۔ تاریخی ورثے کے تحفظ، سیاحتی مقامات کی اپ گریڈیشن اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے متعدد منصوبے متعارف کرائے گئے ہیں۔

بجٹ تجاویز کے مطابق سیاحت کے شعبے کے فروغ کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے اکنامک ٹرانسفارمیشن وژن کے تحت سیاحتی شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جائے گی۔

محکمہ سیاحت کے مطابق "میگنیفیسنٹ پنجاب ٹورازم انٹرن شپ پروگرام" کے تحت ایک ہزار نوجوانوں کو تربیت فراہم کی گئی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو سیاحت کی صنعت سے منسلک کرنا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

حکومت کی جانب سے چکوال، راجن پور، قصور اور مری کے سیاحتی مقامات کی اپ گریڈیشن پر ایک ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں، جبکہ چھانگا مانگا اور چشمہ کے سیاحتی منصوبوں پر 8 ارب 71 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔

محکمہ سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر پنجاب کے تحت 91 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ صوبے کے 172 سیاحتی مقامات کی ڈیجیٹل میپنگ مکمل کرنے کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے۔ ای بز لائسنسنگ ایپ، ٹورازم فورس اور دیگر ڈیجیٹل اقدامات کے ذریعے سیاحتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

بجٹ میں واٹر سپورٹس، پیرا گلائیڈنگ، چیئر لفٹ اور کیبل کار جیسے منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور میوزیم کے نئے بلاک، ٹیکسلا، روہتاس فورٹ، ہڑپہ اور ہرن مینار سمیت تاریخی مقامات کی بحالی اور اپ گریڈیشن پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ٹیکسلا ہیریٹیج سائٹ کی تزئین و آرائش کے لیے 4 ارب روپے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق آئندہ تین برسوں میں سیاحت کے شعبے میں مجموعی طور پر 471 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس میں 171 ارب روپے سرکاری جبکہ 300 ارب روپے نجی شعبے کی سرمایہ کاری شامل ہوگی۔

آئندہ مالی سال کے دوران 31 ارب روپے کی لاگت سے لاہور ہیریٹیج پراجیکٹ شروع کیا جائے گا، جبکہ نارتھ پوٹھوہار ایکو ٹورازم منصوبے کے لیے 42 ارب روپے اور ریلیجس ٹریل پنجاب منصوبے کے لیے 20 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکومت کے مطابق صوبے بھر میں 171 ارب روپے کی لاگت سے 8 سیاحتی سرکٹس قائم کیے جائیں گے، جن میں لاہور ہیریٹیج، مذہبی سیاحت، شمالی و پوٹھوہار، سالٹ رینج، چولستان، جنوبی پنجاب، ہڑپہ اور دیہی سیاحت شامل ہیں۔

حکومتی دعوے کے مطابق ان منصوبوں سے سالانہ 450 ارب روپے تک معاشی سرگرمی پیدا ہوگی جبکہ پنجاب میں سالانہ 18 سے 30 ملین سیاحوں کی آمد متوقع ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پنجاب کے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں مدد ملے گی۔

مزیدخبریں