قصور: عید کی آمد اور 'قصوری کھسے' کی دھوم

03:33 PM, 16 Mar, 2026

قصور : عید الفطر کے قریب آتے ہی جہاں ہر طرف خریداری کا جوش و خروش بڑھ گیا ہے، وہیں قصور کی تاریخی پہچان 'روایتی کھسوں' کی مانگ میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک مشہور قصوری کھسہ آج بھی اپنی نفاست اور پائیداری کی وجہ سے ہر خاص و عام کی پہلی پسند بنا ہوا ہے۔
قصور کے تنگ بازاروں میں واقع کارخانوں میں کاریگر دن رات کام میں مصروف ہیں۔ یہ ہنر مند دھاگے اور سوئی کی مدد سے چمڑے پر ایسے دلکش نقش و نگار تراشتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔یہاں تیار ہونے والے تلے والے، کڑھائی والے اور سادہ چمڑے کے کھسے اپنی مثال آپ ہیں۔
کاریگروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک قدیمی دستکاری ہے جسے انہوں نے اپنے بزرگوں سے ورثے میں پایا ہے اور وہ آج کی جدید مشینری کے دور میں بھی ہاتھ کے کام کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔قصوری کھسے کی شہرت صرف شہر تک محدود نہیں۔ عید کی مناسبت سے      لاہور، فیصل آباد، ملتان اور دیگر شہروں سے لوگ خصوصی طور پر کھسوں کی خریداری کے لیے قصور کا رخ کرتے ہیں۔    خواتین اور مردوں کے لیے مختلف رنگوں اور دیدہ زیب کڑھائی والے کھسے بازاروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔    خریداروں کا کہنا ہے کہ جو نفاست اور آرام قصوری کھسے میں ہے، وہ کسی برانڈڈ جوتے میں نہیں۔
قصور کے یہ کھسے نہ صرف ایک جوتا ہیں بلکہ پنجاب کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ عید کے روز نئے کُرتے پاجامے کے ساتھ روایتی کھسہ پہننا یہاں کے مردوں کا خاصا ہے، جو ان کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتا ہے۔

مزیدخبریں