اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ریگولیٹری ڈیوٹی میں مزید 10 فیصد کمی کر دی ہے، جبکہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد پانچ سالہ مدت کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ نئی پالیسی یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔
حکومتی فیصلے کے تحت دو سال قبل ری کنڈیشنڈ گاڑیوں پر عائد 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کو پہلے 40 فیصد تک کم کیا گیا تھا، جبکہ بجٹ 2026-27 میں مزید 10 فیصد کمی کے بعد یہ شرح 30 فیصد رہ جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ماضی میں گفٹ اور پرسنل بیگیج اسکیموں کے تحت بڑی تعداد میں ری کنڈیشنڈ گاڑیاں درآمد کی گئیں۔ قواعد کے مطابق ایک سمندر پار پاکستانی سال میں صرف ایک گاڑی اپنے قریبی رشتہ دار کو گفٹ کر سکتا تھا، تاہم اس سہولت کا مبینہ طور پر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور مختلف افراد کے پاسپورٹس کے ذریعے گاڑیوں کی درآمد کا سلسلہ جاری رہا۔
حکومت نے بعد ازاں اس طریقہ کار کو محدود کرتے ہوئے ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی کمرشل بنیادوں پر درآمد کی اجازت دے دی۔ نئی پالیسی کے تحت درآمد کنندگان بینکنگ چینلز کے ذریعے ادائیگی کر کے گاڑیاں منگوا سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق درآمدی ڈیوٹی میں مسلسل کمی سے استعمال شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے، تاہم اس اقدام سے قومی خزانے پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025-26 میں ریگولیٹری ڈیوٹی میں رعایت کے باعث حکومت کو 143.4 ارب روپے کی آمدن سے محروم ہونا پڑا، جبکہ آئندہ مالی سال میں مزید 10 فیصد کمی کے نتیجے میں ریگولیٹری اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 125 ارب روپے سے زائد کے اضافی ریونیو نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔