لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھر میں سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک میگا منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پنجاب کے تمام بڑے نالوں کی تعمیر و مرمت اور بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، اس میگا پراجیکٹ میں ابتدائی طور پر راوی اور چناب بیسن کے نالوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سیلابی صورتحال سے نمٹنا اور شہروں سے گندے پانی کے اخراج کو بہتر بنانا ہے۔وزیراعلیٰ نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف بڑے فیصلے کیے ہیں۔
اب کسی بھی نئی ہاؤسنگ سوسائٹی کو واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے بغیر این او سی (NOC) جاری نہیں کیا جائے گا۔ پہلے سے قائم پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو اپنا ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کرنے کے لیے تین ماہ کی حتمی مہلت دے دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیرِ صدارت ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ہڈیارہ ڈرین کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔
ہڈیارہ ڈرین پر روزانہ 50 کروڑ گیلن سیوریج پانی کی ٹریٹمنٹ کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ پانی کی قدرتی صفائی کے لیے فلوٹنگ ویٹ لینڈز (تیرتے ہوئے باغات/فلٹرز) کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ آلودہ پانی کو دریا میں گرنے سے پہلے صاف کیا جا سکے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح کو آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے گا بلکہ دریائی حیات کا تحفظ بھی ممکن ہوگا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا ہے کہ عوامی صحت اور ماحولیات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا بڑا فیصلہ: پنجاب کے بڑے نالوں کی بحالی کا میگا منصوبہ، ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لازمی
03:15 PM, 24 Feb, 2026