پاکستان کی بڑھتی آبادی مؤثر انتظامی ڈھانچے کی متقاضی، چار صوبے کافی نہیں: چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

07:52 PM, 25 Nov, 2025

کراچی: چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ انتظامی تقسیم ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لوکل گورنمنٹ کا نظام ہمیشہ مارشل لا حکومتوں نے بنایا، جبکہ جمہوری ادوار اس نظام کو مضبوط بنیادوں پر استوار نہ کر سکے۔

 چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، مگر یہاں صرف چار صوبے اور چند بڑے شہر ہی قائم کیے گئے، جو اتنے بڑے ملک کے انتظامی بوجھ کو سنبھالنے کے لیے ناکافی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1951 میں ملک کی آبادی صرف 33.7 ملین تھی، جو بڑھ کر آج 243 ملین تک جا پہنچی ہے، اس لیے نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔

انہوں نے چین اور امریکا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین میں 31 جبکہ امریکا میں 50 ایڈمنسٹریٹو یونٹس ہیں، جس وجہ سے وہاں حکمرانی نسبتاً بہتر اور عوامی مسائل کا حل تیز رفتار ہے۔ پاکستان میں اس ماڈل پر سنجیدگی سے غور نہ کرنے کے باعث ترقی کا سفر سست روی کا شکار ہے۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ نہ وہ اور نہ ہی پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، اور آج کی گفتگو مکمل طور پر غیر سیاسی، علمی اور اصلاحاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور تعلیمی ادارے ملکی ترقی کی بنیاد ہیں، اور نوجوانوں میں شعور اور عملی سوچ پیدا کیے بغیر مستقبل کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو نئے انتظامی یونٹس، مضبوط بلدیاتی نظام اور جدید طرزِ حکمرانی کی فوری ضرورت ہے، تاکہ ملکی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا سکے اور گورننس کے دیرینہ مسائل کا پائیدار حل نکل سکے۔

مزیدخبریں