لاہور :صوبائی وزیر صحت و آبادی پنجاب خواجہ عمران نذیر کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں ڈی ایچ کیوز، ٹی ایچ کیوز اور محکمہ صحت کے زیرِ انتظام تمام ہسپتالوں میں آتشزدگی سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری صحت و آبادی، سپیشل سیکرٹری، اے ایس ٹیکنیکل سمیت دیگر افسران نے شرکت کی، جبکہ صوبے بھر سے سی ای او ہیلتھ اور ایم ایس نے آن لائن شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کی روشنی میں فائر سیفٹی ایس او پیز کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔
خواجہ عمران نذیر نے ہسپتالوں میں فائر ایکسٹنگشرز، فائر الارم اور دیگر ضروری آلات کی دستیابی اور ان تک آسان رسائی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے فائر فائٹنگ آلات کے باقاعدہ معائنے، سروسنگ اور مکمل ریکارڈ رکھنے پر بھی زور دیا۔
صوبائی وزیر نے تمام نرسریز میں مناسب وینٹیلیشن، کیمروں کی تنصیب اور 24 گھنٹے عملے کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نرسریز کو اوور کراؤڈڈ نہ ہونے دیا جائے۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موک ایکسرسائزز بھی جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں ہسپتالوں کے پرانے ہائیڈرنٹ پوائنٹس چیک کرنے، ضرورت کے مطابق نئے پوائنٹس قائم کرنے اور الیکٹرک وائرز کا مکمل سکیورٹی آڈٹ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ حکام کو انسپیکشن ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت کی، جو مختلف ہسپتالوں کا دورہ کرکے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیں گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر تمام ڈپٹی کمشنرز بھی اپنے اضلاع میں انتظامات کا خود جائزہ لیں گے۔
صوبائی وزیر صحت نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور ہسپتالوں کے انفراسٹرکچر کو نقصان سے بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ تمام متعلقہ سی ای اوز اور ایم ایس کو انتظامات مکمل کرکے 7 روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حفاظتی اقدامات میں کسی قسم کی کوتاہی، لاپرواہی یا بے احتیاطی برداشت نہیں کی جائے گی۔