لاہور/کراچی : ماہِ رمضان جہاں اپنے ساتھ بے شمار روحانی برکتیں لاتا ہے، وہیں دفتر جانے والی خواتین کے لیے یہ مہینہ ایک بڑے امتحان اور نظم و ضبط کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔ سحری کی تیاری سے لے کر دفتر کی فائلوں تک اور پھر واپسی پر افطار کے دسترخوان تک، ورکنگ ویمن (Working Women) ہمت اور عزم کی نئی مثالیں قائم کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جب آدھی رات کو بیشتر لوگ آرام کر رہے ہوتے ہیں، یہ خواتین کچن میں سحری کی تیاریوں میں مصروف ہوتی ہیں۔ بچوں کو جگانا، گھر والوں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنا اور پھر خود روزے کی نیت کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کرنا ان کے روزمرہ کا حصہ بن چکا ہے۔سحری کے بعد دفتر کی سخت ذمہ داریاں نبھانے کے بعد، شام کو واپسی پر ان کا آرام شروع نہیں ہوتا بلکہ افطار کی تیاری ان کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ تاہم، اس مشکل سفر میں اب گھر کے دیگر افراد اور خاص طور پر بچوں کا رویہ بھی تبدیل ہو رہا ہے۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان ہمیں صبر اور باہمی تعاون کا درس دیتا ہے۔ اگر گھر کے تمام افراد ذمہ داریاں بانٹ لیں تو یہ مہینہ خواتین کے لیے مشکل ہونے کی بجائے آسانی اور برکت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
’سحری سے افطار تک کا کٹھن سفر‘: ملازمت پیشہ خواتین کے لیے رمضان المبارک دوہری ذمہ داریوں کا امتحان بن گیا
06:50 PM, 27 Feb, 2026