اگرایمانداری،دیانتداری اورسچائی سےاپنےکام پرتوجہ دیں توبہترانسان بن سکتےہیں،پروفیسرڈاکٹرچودھری عبدالرحمان

11:34 AM, 27 Nov, 2025

کراچی :  ایپ سپ کی جانب سے "پاکستان 2030: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں" کے عنوان سے ملک گیر آگاہی مہم کے تحت اقراء یونیورسٹی کراچی میں ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کی سمت اور ملک کو درپیش چیلنجز پر گفتگو کی۔

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا کہ پاکستان کو 79 سال ہو گئے ہیں، اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ ہمارا ملک کس سمت جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنی سمت درست کر لیں تو کامیابی کی منزل تک پہنچنا مشکل نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کو دو اہم مسائل درپیش ہیں: ایک انفرادی سطح پر لوگوں کا کردار، اور دوسرا اجتماعی سطح پر مسائل، جن پر عوام کی توجہ کم ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اگر ہم نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں تو ہم نہ صرف بہتر انسان بن سکتے ہیں بلکہ اپنے معاشرتی مسائل کا بھی حل نکال سکتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ نبی ﷺ نے مدینہ کی فلاحی ریاست قائم کی تھی، اور اگر ہم اس ماڈل پر عمل کریں تو معاشرتی بہتری ممکن ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے میاں عامر محمود کو قوم کا ہیرو قرار دیا اور کہا کہ "میاں عامر محمود نے 450 کالجز قائم کیے ہیں جن میں پانچ لاکھ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، اور ان کی خدمات کو سراہا جانا چاہیے۔" انہوں نے کہا کہ میاں عامر جیسے افراد کی وجہ سے پاکستان کی تعلیمی نظام میں بہتری آئی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی ترقی کے لیے ہمیں اپنے کردار کو بہتر بنانا ہوگا اور اس کے لیے محنت اور لگن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ "دنیا بھر کی یونیورسٹیاں آج کل کردار سازی پر کام کر رہی ہیں اور ہمیں بھی اس پر توجہ دینی ہوگی۔" انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی گورننس کے ماڈل کو بہتر کریں اور انتظامی یونٹس کو چھوٹا کریں تاکہ وسائل کی بہتر تقسیم ہو سکے۔"

مزیدخبریں