اسلام آباد: پیٹرن انچیف یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ پاکستان میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں، تاہم معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے نظام میں بہتری اور کاروباری طبقے کو سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا۔
اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے ایس ایم تنویر نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، ٹیلنٹ اور محنتی افرادی قوت سے مالا مال ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے معاشی بہتری کیلئے کیے جانے والے اقدامات حوصلہ افزا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خساروں میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری ملک کیلئے بڑے چیلنجز ہیں۔ پاکستان کے پاس تمام وسائل موجود ہیں، اس کے باوجود مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجوہات کا حل تلاش کرنا ہوگا۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ بھاری ٹیکسز کے باعث صنعتوں کا فروغ مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے کاروبار دوست پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چنیوٹ کا فرنیچر عالمی معیار کا ہے، جو پاکستانی صنعت کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
یو بی جی کے پیٹرن انچیف نے کہا کہ بزنس کمیونٹی ملکی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ پاکستان 170 ارب ڈالر تک برآمدات بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ موجودہ برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقے کو ہراساں کرنے کے بجائے سہولیات اور اعتماد فراہم کرنا ہوگا، کیونکہ یہی طبقہ روزگار کے مواقع پیدا کرتا اور قومی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔
ایس ایم تنویر نے تجویز دی کہ ملکی پالیسی سازی میں بزنس کمیونٹی کی مؤثر نمائندگی ہونی چاہیے تاکہ معاشی فیصلوں میں کاروباری شعبے کا تجربہ شامل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر روزگار کے مواقع پیدا نہ کیے گئے تو بے روزگاری اور معاشرتی مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اپنے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برآمدات میں اضافہ، صنعتوں کا فروغ اور معاشی خود انحصاری حاصل کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔