لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت پنجاب حکومت نے لاہور کی ماحولیاتی آلودگی اور سموگ سے نجات کے لیے ایک انقلابی منصوبہ ’’لنگز آف لاہور‘‘ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد لاہور کے ارد گرد ایک جنگل نما حد بندی قائم کرنا ہے، جو نہ صرف فضائی آلودگی میں کمی لائے گی بلکہ شہری پھیلاؤ کو بھی روکنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
محکمہ ہاؤسنگ کے ترجمان نے بتایا کہ ’’لنگز آف لاہور‘‘ منصوبے کے تحت 48 لاکھ سے زائد درخت لگائے جائیں گے اور لاہور کی جنگل نما حد بندی کی کل لمبائی 112 کلومیٹر ہوگی، جس کا رقبہ 1711 ایکڑ پر محیط ہو گا۔ یہ منصوبہ تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں 1210 ایکڑ اراضی پر 59 کلومیٹر طویل رنگ فاریسٹ بنایا جائے گا، جس کا مقصد فضائی آلودگی کو کم کرنا اور شہر کے قدرتی ماحول کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ اس مرحلے کو ایک سال کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔
دوسرے اور تیسرے مرحلے میں 31 کلومیٹر اور 22 کلومیٹر طویل جنگلات لگائے جائیں گے، جو شہر کی قدرتی خوبصورتی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ لاہور کی ماحولیاتی صورتحال میں بہتری لائیں گے۔
منصوبے کی تکمیل کے بعد تقریباً 2 کروڑ شہری اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور لاہور کے ماحول میں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔ پی ایچ اے لاہور اس منصوبے کی تکمیل کی ذمہ داری اٹھائے گا اور اسے جدید ترین ماحول دوست اصولوں کے تحت مکمل کرے گا۔
محکمہ ہاؤسنگ کے ترجمان نے اس منصوبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق ہے، جو سموگ کے تدارک اور لاہور کے ماحول کو دوبارہ سرسبز و شاداب بنانے کے لیے ایک منفرد قدم ہے۔
سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے بھرپور انداز میں کام شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے گا تاکہ لاہور ایک بار پھر ’’باغوں کا شہر‘‘ بن سکے۔
یہ منصوبہ نہ صرف لاہور کی ماحولیاتی حالت کو بہتر بنائے گا بلکہ شہریوں کو صحت مند ماحول فراہم کرے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’’ہمارا مقصد لاہور کو عالمی معیار کا ماحولیاتی مرکز بنانا ہے، جہاں صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کیا جائے۔‘‘