پنجاب کا 6 ہزار ارب کا ٹیکس فری بجٹ: مریم نواز حکومت کا زراعت، صحت اور تعلیم پر مشتمل "پبلک ریلیف ماڈل" لانے کا فیصلہ

01:10 AM, 31 May, 2026

لاہور :حکومتِ پنجاب نے مالی سال 27-2026ء کے لیے اپنے سیاسی و معاشی اہداف کو یکجا کرتے ہوئے 6 ہزار ارب روپے کا متوازن بجٹ تیار کر لیا ہے، جسے جون کے دوسرے ہفتے صوبائی ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ اس بجٹ کو مریم نواز انتظامیہ کا اب تک کا سب سے بڑا "پبلک ریلیف ماڈل" قرار دیا جا رہا ہے، جس میں کسی بھی نئے ٹیکس کی شمولیت کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔

سیاسی و معاشی ماہرین کے مطابق، اس بجٹ کا اصل رخ صوبے کے پسماندہ شعبوں کی بحالی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ایک کھرب 600 ارب روپے کا خطیر ترقیاتی فنڈ (ADP) تجویز کیا ہے، جس کا بڑا محور زراعت کی ڈیجیٹلائزیشن، سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی، تعلیمی وظائف، "سُتھرا پنجاب" صفائی مہم اور صوبے بھر میں امن و امان کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاق کے برابر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا فیصلہ، اور ساتھ ہی تاجر برادری پر اضافی بوجھ نہ ڈالنا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت صوبے میں معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ سیاسی گراف کو بھی بلندی پر رکھنا چاہتی ہے۔ اب تمام نظریں جون کے دوسرے ہفتے اسمبلی سیشن پر لگی ہیں جہاں اس بجٹ کو باقاعدہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

مزیدخبریں