لاہور/گوجرانوالہ :وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ کے عوام کے لیے ایک تاریخی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے "گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ سسٹم" کے ڈیزائن کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس جدید منصوبے کے تحت شہر کے ٹرانسپورٹ کلچر کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
منصوبے کی خاص بات شہر میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لیے ٹریک کا ایک بڑا حصہ زیرِ زمین تعمیر کرنا ہے۔ گکھڑ سے ایمن آباد تک 31.5 کلومیٹر طویل ٹریک بچھایا جائے گا۔ تقریباً 17 سے 19 کلومیٹر طویل ٹریک زیرِ زمین ہوگا، جس کے لیے دو ٹنل سیکشنز بنائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے اس عظیم الشان منصوبے کو صرف 12 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ماس ٹرانزٹ سسٹم کے مجموعی طور پر 24 سٹیشنز ہوں گے جن میں سے 2 انڈر گراؤنڈ تعمیر کیے جائیں گے۔ شہر بھر کے مسافروں کو میٹرو ٹرین تک رسائی دینے کے لیے خصوصی فیڈر بسیں چلائی جائیں گی جو گوجرانوالہ کے ہر کونے کو مین ٹریک سے منسلک کریں گی۔ گرجاکھ، چن دا قلعہ اور گوندلا والا میں ٹرینوں کے لیے جدید ڈپو بھی قائم ہوں گے۔
اس منصوبے سے روزانہ 26 لاکھ مسافروں کو باوقار سفری سہولت میسر آئے گی۔ منصوبے کی دیگر اہم خصوصیات درج ذیل ہیں،۔ سولر پاور: بجلی کی بچت کے لیے تمام اسٹیشنز اور ڈپوز کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے گا۔ پورے سسٹم کی نگرانی کے لیے جدید ترین کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم ہوگا۔ٹریک کے دونوں اطراف 62 کلومیٹر طویل نکاسی آب کی ڈرین تعمیر کی جائے گی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ گوجرانوالہ کے شہریوں کے لیے ایک شاندار تحفہ ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اس سسٹم کی تکمیل سے شہر کا نقشہ بدل جائے گا اور عوام کو وہ تمام سفری سہولیات ملیں گی جو کسی بھی ترقی یافتہ عالمی شہر کا خاصہ ہوتی ہیں۔