لاہور : عزمِ مصمم اور سچی لگن ہو تو جسمانی معذوری کامیابی کی راہ میں دیوار نہیں بن سکتی، اس بات کو سچ کر دکھایا ہے پنجاب پولیس کے ایک نڈر اور باہمت نوجوان نے۔ پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ میں تعینات انٹیلی جنس آفیسر محسن خالد نے بینائی کے پیدائشی مرض کے باوجود ملک کے سب سے معتبر مقابلے کے امتحان (CSS) میں پورے پاکستان میں دوسری پوزیشن حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔
اس غیر معمولی کامیابی کے بعد محسن خالد کا انتخاب باوقار سول سروس "پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز" (PAS) کے لیے ہوا ہے۔ ان کی اس تاریخی کامیابی پر آئی جی پنجاب عبدالکریم نے انہیں سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) مدعو کیا، جہاں ان کی شاندار پذیریائی کی گئی اور انہیں گلدستہ پیش کیا گیا۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق محسن خالد پیدائشی طور پر بینائی سے محروم ہیں، لیکن انہوں نے اپنی بصارت کی محرومی کو کبھی اپنے بلند حوصلوں کے آڑے نہیں آنے دیا۔ انہوں نے سال 2025 میں پنجاب پولیس کے شعبہ سپیشل برانچ میں بطور انٹیلی جنس آفیسر شمولیت اختیار کی اور فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم اور سی ایس ایس کی تیاری کو جاری رکھا۔
ملاقات کے دوران آئی جی پنجاب عبدالکریم نے محسن خالد کے والدین کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود اپنے بیٹے کو اس مقام پر پہنچانا والدین کی عظمت کی دلیل ہے۔ انہوں نے محسن خالد کو نصیحت کی کہ وہ اپنی نئی ٹریننگ کو دلجمعی سے مکمل کریں اور ایڈمنسٹریٹو سروس میں جا کر شہریوں کی بے لوث خدمت کریں۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم کا کہنا تھا محسن خالد نے اپنی محنت سے ثابت کر دیا کہ بصارت نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر انسان کے پاس آگے بڑھنے کی سچی ’بصیرت‘ موجود ہو۔ انہوں نے محکمہ پولیس کا سر فخر سے بلند کیا ہے اور وہ ہم سب کے ہیرو ہیں۔