پنجاب میں سکول آؤٹ سورسنگ کا کامیاب تجربہ، طلبہ اور اساتذہ کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ

پنجاب میں سکول آؤٹ سورسنگ کا کامیاب تجربہ، طلبہ اور اساتذہ کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ

لاہور:پنجاب میں سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے باعث محض سولہ ماہ میں طلبہ کی انرولمنٹ میں 99 فیصد اور اساتذہ کی تعداد میں 114 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے 60 ہزار سے زائد نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع میسر آئے ہیں۔ اس کے علاوہ، پنجاب میں پہلی بار "سکول آف منتھ" اور "ٹیچر آف دی منتھ" ایوارڈز بھی دیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آن ویل مونٹیسری سکول پراجیکٹ پر کام شروع کرنے اور سرکاری سکولوں میں پہلی مرتبہ وین/بس سروس متعارف کرانے کی ہدایت دی ہے۔ سکول بس سروس کے لیے جامع پلان بھی طلب کیا گیا ہے۔

پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے دنیا کی سب سے بڑی کامیاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ریکارڈ قائم کیا ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں 57 ہزار سکولوں کے لیے 40 ہزار درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ آؤٹ سورس کیے گئے سکولوں میں 80 فیصد انفراسٹرکچر کی بہتری کا ہدف مکمل کیا جا چکا ہے۔

آؤٹ سورس سکولوں میں طلبہ کی تعداد 4 لاکھ 53 ہزار سے بڑھ کر بہت زیادہ ہوئی ہے جبکہ اساتذہ کی تعداد بھی 8 ہزار سے بڑھ کر 17,196 ہو گئی ہے۔ نئے کلاس رومز کی تعمیر، رومز اور چھتوں کی مرمت، چار دیواری کی تعمیر اور شمسی توانائی کی تنصیب کے ذریعے تعلیمی ماحول کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ، واٹر ٹینک، واٹر کولرز، بلیک بورڈز اور فرنیچر فراہم کیے گئے ہیں، اور کئی سکولوں میں اپنی مدد آپ کے تحت بچوں کو دوپہر کا کھانا بھی دیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے دیہات میں ایجوکیشن ٹیک سکول شروع کرنے، انگلش بول چال کے پائلٹ پراجیکٹ کو فروغ دینے اور ہر ضلع میں ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن کے لیے 10 ہزار کلاس رومز کی تعمیر کی ہدایت دی ہے۔ ساتھ ہی سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، میتھمیٹکس اور لیب کی سہولیات کو بڑھانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ معیاری ٹیچر ٹریننگ اور تعلیمی معیار کو بہتر بنا کر سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ سکولوں سے بھی آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ داخلی راستوں کی بہتری اور اساتذہ کی تعداد کو مناسب بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

پنجاب کے تعلیمی نظام میں یہ اصلاحات بچوں اور اساتذہ کے لیے بہتر تعلیمی اور معاشرتی ماحول فراہم کرنے کی کوشش ہیں۔

ٹیگز: