پنجاب بجٹ 2026-27 پیش، تعلیم و صحت پر بڑا فوکس، مجموعی حجم 5903 ارب روپے سے زائد

پنجاب بجٹ 2026-27 پیش، تعلیم و صحت پر بڑا فوکس، مجموعی حجم 5903 ارب روپے سے زائد

لاہور: پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس اسپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی شریک تھیں۔ وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے مالی سال 2026-27 کا صوبائی بجٹ ایوان میں پیش کیا۔

بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، جس میں ترقی، کفایت شعاری اور عوامی سہولتوں کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مختلف شعبوں میں اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے پر مبارکباد دیتے ہوئے سیاسی و عسکری قیادت کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ دنیا خطے میں پاکستان کے کردار اور معرکہ حق میں کامیابی کو تسلیم کر رہی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے پنجاب کا مجموعی بجٹ 5903 ارب 46 کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.7 فیصد زیادہ ہے۔ جاری اخراجات 1962 ارب 93 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ کفایت شعاری پالیسی کے باعث ان میں 3.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز شامل ہے۔ پنشن کے لیے 500 ارب 12 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

تعلیم کے شعبے کے لیے 750 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جو مجموعی بجٹ کا 15 فیصد سے زائد حصہ بنتا ہے۔ لیپ ٹاپ پروگرام کے لیے 27 ارب روپے، ہونہار اسکالر شپ کے لیے 15 ارب روپے جبکہ تعلیمی انفراسٹرکچر کے لیے 40 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

صحت کے شعبے کے لیے 500 ارب 62 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت نواز شریف انسٹیٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ کے لیے 20 ارب روپے اور اسٹروک انیشیٹو کے لیے 1 ارب 20 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ بہاولپور میں چلڈرن اسپتال کے لیے 23 ارب 37 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

بجٹ میں کسانوں اور صنعتی شعبے کے لیے کاٹن فیس کے خاتمے اور کاروباری طبقے کے لیے ونڈو آپریشن سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے ریگولیٹری عمل میں آسانی اور اخراجات میں کمی متوقع ہے۔

برآمدات میں اضافے کے لیے 13 ارب 30 کروڑ روپے سے فیکٹری پارکس قائم کرنے کی تجویز ہے جبکہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے 193 ارب روپے کا خصوصی پیکج بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

ٹیگز: