پنجاب بجٹ 2026-27: صحت کے شعبے کے لیے 500 ارب روپے سے زائد مختص، نئے اسپتالوں اور طبی منصوبوں کا اعلان

پنجاب بجٹ 2026-27: صحت کے شعبے کے لیے 500 ارب روپے سے زائد مختص، نئے اسپتالوں اور طبی منصوبوں کا اعلان

لاہور: پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے محکمہ صحت کے بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے صحت اور آبادی کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 500 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کر دیے ہیں۔ بجٹ میں نئے اسپتالوں، بنیادی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن، ایمرجنسی سروسز کی توسیع اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعدد منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اور صحت و آبادی کے لیے غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 424 ارب 32 کروڑ روپے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 76 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

صوبائی حکومت نے 169 ارب روپے کی لاگت سے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں چلڈرن، آرتھوپیڈک، برن اور سرجیکل اسپتال قائم کیے جائیں گے۔

بجٹ میں کلثوم نواز کینسر ہسپتال کے لیے 15 ارب 21 کروڑ روپے، بہاولپور چلڈرن ہسپتال کی تعمیر کے لیے 23 ارب 37 کروڑ روپے اور انسٹیٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اسی طرح نشتر ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 ارب ایک کروڑ روپے جبکہ ایمرجنسی سروسز کی توسیع اور استعداد کار میں اضافے کے لیے تقریباً 5 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

صحت کے بجٹ میں لاہور اور سرگودھا کے کارڈیالوجی منصوبوں کے لیے 28 ارب 94 کروڑ روپے جبکہ پنجاب بھر میں 15 نئے کارڈیک سرجری یونٹس کے قیام کے لیے 9 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ٹیچنگ اسپتالوں میں جدید ایم آر آئی مشینوں کی فراہمی کے لیے 8 ارب 31 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار نیورو کیتھ لیبز کے قیام کے لیے ایک ارب 75 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں سی ایم ہارٹ سرجری پروگرام کے لیے 21 ارب 3 کروڑ روپے، مریم نواز ہیلتھ کلینک پروگرام کے تحت 2623 مراکز صحت کی اپ گریڈیشن، 434 بنیادی مراکز صحت کی بحالی کے لیے 9 ارب 60 کروڑ روپے اور معیاری ادویات کی فراہمی کے لیے 15 ارب 21 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

حکومت نے ڈائیلیسس پروگرام کے لیے 66 ارب 3 کروڑ روپے جبکہ شوگر کے مریضوں کو انسولین اور ادویات کی فراہمی کے لیے 5 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی ہے۔ فالج کے مریضوں کے لیے پہلی بار اسٹروک انیشی ایٹو پروگرام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔

علاوہ ازیں، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کی بحالی کے لیے 2 ارب 45 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

تاہم بجٹ دستاویزات کے مطابق محکمہ صحت کے مجموعی فنڈز میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں کمی کی گئی ہے۔ ترقیاتی بجٹ 181 ارب روپے سے کم ہو کر 76 ارب 30 کروڑ روپے رہ گیا ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں 104 ارب 70 کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی طرح غیر ترقیاتی بجٹ بھی 450 ارب روپے سے کم ہو کر 424 ارب 32 کروڑ روپے رہ گیا ہے، جو تقریباً 26 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

ٹیگز: