لاہور : حکومتِ پنجاب نے صوبے میں زراعت کی ترقی اور غریب عوام کی معاشی بحالی کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے 'اپنا کھیت، اپنا روزگار' پروگرام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت صوبے بھر میں ہزاروں خاندانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پروگرام وزیراعلیٰ مریم نواز کے عوامی فلاحی وژن کا عکاس ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے پنجاب کے 88 ہزار مستحق خاندانوں کو زمین الاٹ کی جائے گی۔ غیر کاشتکاروں اور غریب خاندانوں کو 2 سے 5 ایکڑ تک سرکاری زمین لیز پر دی جائے گی تاکہ وہ باعزت روزگار کما سکیں۔
اس منصوبے کے تحت دی جانے والی زمین کی کل مالیت تقریباً 160 ارب روپے ہے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد صوبے کی بنجر اور غیر آباد زمینوں کو کاشت کے قابل بنا کر زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کسانوں کے لیے کیے گئے دیگر اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ٹریکٹرز اور مشینری: کسانوں کو 21 ہزار گرین ٹریکٹر اور 5 ہزار سپر سیڈر فراہم کیے گئے ہیں۔ اب تک 8 ہزار کسانوں میں سولر سسٹم تقسیم کیے جا چکے ہیں تاکہ آبپاشی کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب کے عوام کو اب اپنے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھانی پڑتی، بلکہ وزیراعلیٰ خود ان کی ضروریات کا خیال رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمینیں شفاف طریقے سے تقسیم کی جائیں گی تاکہ حقیقی حقدار معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔