نوجوانوں کو ایکسپورٹرز بنانے کی پالیسی اپنانا ہوگی: لاہور چیمبر

نوجوانوں کو ایکسپورٹرز بنانے کی پالیسی اپنانا ہوگی: لاہور چیمبر

پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے برآمدات میں اضافے اور حکومت و کاروباری طبقے کے مؤثر رابطے پر زور

لاہور: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ایکسپورٹ نے اپنی ایک سالہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے پاکستان کی برآمدات بڑھانے اور نوجوانوں کو عالمی تجارت سے جوڑنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

میاں شعیب بٹالوی نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا انحصار برآمدات میں اضافے پر ہے، اس لیے حکومت کو معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں بزنس کمیونٹی سے باقاعدہ مشاورت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف ملازمتوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عالمی سطح کے ایکسپورٹرز بنانے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ کے تقاضوں سے روشناس کراکے ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

میاں شعیب بٹالوی کے مطابق پاکستان سکول آف ایکسپورٹ نوجوانوں کو بین الاقوامی تجارت، کسٹمز اور لاجسٹکس کے شعبوں میں عملی تربیت فراہم کر رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارم نوجوانوں کو عالمی منڈی تک رسائی اور برآمدی کاروبار شروع کرنے کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے اور نئے ایکسپورٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت اور بزنس کمیونٹی کے درمیان مضبوط اور مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ کاروباری طبقے کی تجاویز کو پالیسی سازی میں شامل کرکے برآمدی شعبے کو درپیش مشکلات کم کی جا سکتی ہیں۔

شرکاء نے کہا کہ نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ سے جوڑ کر پاکستان کی ایکسپورٹ اکانومی کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ ملک کو مضبوط برآمدی معیشت بنانے کے لیے حکومت، کاروباری برادری اور نوجوانوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

پریس کانفرنس میں لاہور چیمبر کے نائب صدر خرم لودھی، حسن سپرا، ڈاکٹر افضل، حمزہ ندیم، آمنہ، ایکسپورٹرز اور پاکستان سکول آف ایکسپورٹ کے طلبہ نے شرکت کی۔

ٹیگز: