لاہور : فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے سرکردہ رہنما ایس ایم تنویر نے لاہور میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو معاشی استحکام کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے، تاہم انہوں نے تجارتی پالیسیوں میں اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے پر زور دیا ہے۔
ایس ایم تنویر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مارکیٹیں رات 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ انہوں نے تاجروں پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہااگر تاجر چور ہوتے تو ملک کا ٹیکس ریونیو کبھی دوگنا نہ ہوتا۔ تاجر معیشت کا پہیہ ہیں، انہیں چور کہنا بند کیا جائے۔حکومت کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے تاجروں سے رابطہ کرے، ہم معیشت کی بہتری کے لیے درست مشورہ دیں گے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے وزیراعظم اور عسکری قیادت کی عالمی سفارت کاری کو سراہتے ہوئے کہا جس طرح وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی چیلنجز اور جنگی حالات سے نمٹ رہے ہیں، اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے اسے پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیا کہ آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار جہازوں کا باآسانی گزرنا عالمی سطح پر ملک کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ثبوت ہے۔
ایس ایم تنویر نے واضح کیا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے پاکستان کو اس وقت لانگ ٹرم (طویل مدتی) پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں نئی انڈسٹریز لگ سکیں۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اسی ملک میں جینا اور مرنا ہے، اس لیے ہم پاکستان کی ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔"