پاکستان کو معاشی سمت بدلنا ہوگی: ایس ایم تنویر

 پاکستان کو معاشی سمت بدلنا ہوگی: ایس ایم تنویر

 لاہور:قومی پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ پاکستان کو موجودہ معاشی مشکلات سے نکلنے کے لیے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر نئی معاشی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ملک میں نئی صنعتوں کا قیام، برآمدات میں اضافہ اور قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں نئی صنعتیں قائم نہیں ہو رہیں۔ اگر صنعتیں ہوں اور مطلوبہ اہلیت رکھنے والی افرادی قوت دستیاب نہ ہو تو یہ بھی ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا، اس لیے صنعتی ترقی کے ساتھ ہنرمندی کو فروغ دینا ہوگا۔

 ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ بھارت جیسے دشمن سر پر بیٹھے ہیں، اس لیے ملکی معیشت کو ہر صورت بہتر کرنا ہوگا۔ مضبوط معیشت کے بغیر ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر موسم موجود ہونے کے باوجود زراعت کا شعبہ اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کر رہا۔ دوسری طرف ملک دنیا کی مہنگی ترین بجلی خرید رہا ہے، جس سے صنعت اور کاروبار کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 ایس ایم تنویر نے کہا کہ پاکستان کے پاس تھر میں بہترین کوئلہ، بلوچستان میں معدنیات اور بلیو اکانومی کے وسیع مواقع موجود ہیں، مگر ہم ان وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے بجائے کشکول لے کر پھر رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ چنیوٹ میں فرنیچر سازی کا کام ہوتا ہے لیکن اس کی برآمد نہیں ہو رہی۔ خیرپور سے کھجور بیرون ملک جاتی ہے اور پھر چاکلیٹ بن کر واپس آتی ہے، ہمیں خام مال برآمد کرنے کے بجائے اپنی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کرکے انہیں عالمی منڈیوں تک پہنچانا ہوگا۔

 ایس ایم تنویر نے کہا کہ ملک کا قرض بڑھتا جا رہا ہے اور ٹیکس بھی بڑھ رہے ہیں، ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو صنعت، زراعت، توانائی اور برآمدات کے شعبوں میں بنیادی اصلاحات کے ذریعے پائیدار معاشی ترقی کی راہ اختیار کرنا ہوگی۔

ٹیگز: