شہر گداگروں کے حصار میں: پیشہ ور بھکاریوں کی یلغار سے شہریوں کا سکون چھن گیا

شہر گداگروں کے حصار میں: پیشہ ور بھکاریوں کی یلغار سے شہریوں کا سکون چھن گیا

لاہور :صوبائی دارالحکومت کے گلی کوچے، بازار اور شاہراہیں پیشہ ور بھکاریوں کی آماجگاہ بن گئی ہیں۔ بھکاریوں کی تعداد میں ہوش ربا اضافے نے نہ صرف شہریوں اور راہگیروں کا جینا محال کر دیا ہے بلکہ دکانداروں کے لیے بھی اپنے کاروبار چلانا ایک سنگین چیلنج بن گیا ہے۔
شہر کے اہم چوکوں اور ٹریفک سگنلز پر بھکاریوں کے منظم گروہوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔شہریوں کی شکایت ہے کہ بھکاری اب محض سوال نہیں کرتے بلکہ زبردستی گاڑیوں کے شیشے بجا کر اور کپڑے پکڑ کر پیسے مانگتے ہیں، انکار کی صورت میں بدتمیزی اور بددعاؤں پر اتر آتے ہیں۔گروہوں کی صورت میں کام کرنے والے ان بھکاریوں میں خواتین اور چھوٹے بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جو ہمدردی بٹورنے کے لیے خطرناک حد تک چلتی گاڑیوں کے سامنے آجاتے ہیں۔
تجارتی مراکز اور مذہبی مقامات بھی اس لہر سے محفوظ نہیں رہے۔دکانداروں کے مطابق بھکاریوں کی مسلسل موجودگی کی وجہ سے گاہک دکانوں پر آنے سے کتراتے ہیں۔نماز کے اوقات میں مساجد کے داخلی و خارجی راستوں پر بھکاریوں کی بھرمار نے نمازیوں کی توجہ اور سکون کو بھی متاثر کیا ہے۔

منظم مافیا کا منظم نیٹ ورک

شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ گداگری اب ضرورت نہیں بلکہ ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔ صبح کے وقت مخصوص ویگنیں اور رکشے ان بھکاریوں کو شہر کے مختلف مقامات پر 'ڈیوٹی' کے لیے چھوڑتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک طاقتور مافیا سرگرم ہے۔

ٹیگز: