لاہور: صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک کا نصف حصہ گزر جانے کے باوجود خیبر پختونخوا (KP) میں اب تک رمضان پیکج کی تقسیم شروع نہیں ہو سکی، جو کہ عوامی مسائل سے لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اپنے ایک تند و تیز بیان میں عظمیٰ بخاری نے دونوں صوبوں کی کارکردگی کا موازنہ پیش کرتے ہوئے درج ذیل نکات اٹھائے۔انہوں نے کہاکہ ’رمضان نگہبان پروگرام‘ کے تحت اب تک 30 لاکھ افراد کو امدادی رقوم منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ ہدف 40 لاکھ تک پہنچنا ہے۔
کے پی حکومت اب تک صرف اپنے ارکانِ اسمبلی سے فہرستیں ہی طلب کر رہی ہے اور عملی طور پر میدان خالی ہے۔ پنجاب بھر میں روزانہ لاکھوں افراد سرکاری سطح پر لگائے گئے دسترخوانوں سے افطاری کر رہے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے تحریک انصاف کی قیادت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا پاکستان تحریک انصاف ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان پیکج کے نام پر 10 ارب روپے اپنے پارٹی کارکنوں میں بانٹ دے گی۔ 12 سال سے 4 کروڑ کی آبادی والے صوبے کو ایسے لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جنہیں غریب کے چولہے کی کوئی فکر نہیں۔
صوبائی وزیر نے کے پی حکومت کے ذمہ داران کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مزمل اسلم اور سہیل آفریدی جیسے عہدیداروں کو خود بھی معلوم نہیں کہ امداد کی تقسیم شروع ہوئی ہے یا نہیں۔ انہوں نے اسے انتظامی نااہلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت عوامی خدمت کے بجائے صرف سیاست چمکانے میں مصروف ہے۔