سفارش اور کرپشن کا خاتمہ: ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) گاڑیوں کی خریداری

سفارش اور کرپشن کا خاتمہ: ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) گاڑیوں کی خریداری

لاہور : پنجاب پولیس نے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے نظام میں شفافیت لانے اور انسانی مداخلت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ ٹریفک حکام کے مطابق، ڈرائیونگ ٹیسٹ کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے ذریعے مانیٹر کرنے کے لیے جدید گاڑیوں کی خریداری کا عمل حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔
ٹریفک ہیڈ کوارٹرز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد لائسنس کے اجراء میں سفارشی کلچر اور کرپشن کے امکانات کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔ اب امیدوار کی مہارت کا فیصلہ کوئی اہلکار نہیں بلکہ گاڑی میں نصب سینسرز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سافٹ ویئر کرے گا۔ ٹریفک حکام نے مجموعی طور پر 44 مخصوص گاڑیاں خریدی ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔
 یہ گاڑیاں اگلے ہفتے تک ٹریفک ہیڈ کوارٹرز پہنچ جائیں گی، جس کے بعد انہیں مرحلہ وار مختلف اضلاع کے ٹیسٹنگ سینٹرز کے حوالے کیا جائے گا۔
ان گاڑیوں کے استعمال سے   گاڑی چلانے کے دوران ریورس، پارکنگ اور دیگر مہارتوں کو سینسرز کے ذریعے ناپا جائے گا۔ غلطی کی صورت میں سسٹم خود بخود نمبر کاٹ لے گا، جس سے انسانی پسند و ناپسند کا عمل دخل ختم ہو جائے گا۔ صرف وہی امیدوار لائسنس حاصل کر سکیں گے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈرائیونگ پر عبور رکھتے ہوں گے۔
ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کے نفاذ سے نہ صرف میرٹ کی بالادستی قائم ہوگی بلکہ سڑکوں پر نااہل ڈرائیورز کی کمی سے حادثات میں بھی واضح کمی آئے گی۔ یہ منصوبہ پنجاب کو "ڈیجیٹل پنجاب" بنانے کے وژن کا ایک اہم حصہ ہے۔

ٹیگز: