راولپنڈی : صوبائی وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قبل از وقت "آہنی ہاتھوں" سے نمٹنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو فیلڈ میں متحرک ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ راولپنڈی میں ڈینگی کی صورتحال کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں رکن قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب اور کمشنر راولپنڈی انجینئر عامر خٹک بھی شریک تھے۔
صوبائی وزیر صحت نے واضح کیا کہ انسدادِ ڈینگی مہم میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ افسران دفاتر سے نکل کر خود فیلڈ میں جا کر ان ڈور اور آؤٹ ڈور سرویلنس کی نگرانی کریں۔ ضلعی حدود میں موجود کباڑ خانوں اور قبرستانوں کی خصوصی مانیٹرنگ کی جائے۔ ڈینگی مہم کی شفافیت جانچنے کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن پر خصوصی توجہ دی جائے۔
رکن قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے مطالبہ کیا کہ ضلع مری میں ڈینگی کے خصوصی وارڈز کو فوری فعال کیا جائے تاکہ راولپنڈی کے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ یکم جنوری 2026 سے اب تک راولپنڈی میں ڈینگی کا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے، جو کہ بروقت اقدامات کا نتیجہ ہے۔حکومت نے ڈینگی سے بچاؤ کے لیے ایک مربوط نظام مرتب کیا ہے جس کے تحت سکولوں اور کالجوں میں "زیرو پیریڈ" کے ذریعے طلبہ کو آگاہی دی جا رہی ہے۔ محکمہ اوقاف کے ذریعے مساجد سے صفائی اور ڈینگی سے بچاؤ کے اعلانات کرائے جا رہے ہیں۔ مہم میں طلبہ اور رضاکاروں کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ انسانی جان بچانا سب سے افضل کام ہے، اس لیے اسے محض پیشہ ورانہ ڈیوٹی نہیں بلکہ جذبے سے پورا کیا جائے۔ گذشتہ برس متاثر ہونے والے علاقوں میں خصوصی بینرز اور پوسٹرز آویزاں کیے جائیں گے اور عوام کو مچھر مار ادویات کے استعمال کی ترغیب دی جائے گی۔