لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کو ایک شفاف اور عوام دوست فورس بنانے کے لیے کرپٹ عناصر کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ عوام کو تنگ کرنے اور فورس کا نام بدنام کرنے والے اہلکاروں کو اب معمولی محکمانہ سزا نہیں بلکہ 3 سال قید کی ہوا کھانی پڑے گی۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے 'پیرا' اہلکاروں کی فیلڈ کارروائیوں میں شفافیت لانے کے لیے 30 جون تک تمام اہلکاروں پر باڈی کیمرے نصب کرنے کی حتمی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی کارروائیوں کا خاتمہ اور اہلکاروں کے عوامی رویے کی نگرانی کرنا ہے۔'پیرا' فورس کے چوتھے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مریم نواز نے 4 ہزار اہلکاروں اور افسران کی فوری سکروٹنی کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پیرا میں ایک ایک اہلکار کا ریکارڈ کھولا جائے اور ماضی کی جانچ پڑتال کی جائے۔ جو صاف ہے وہ بے خوف رہے، لیکن جو بے ایمان ہے وہ سخت کارروائی کے لیے تیار رہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی پر اب تک 1356 انکوائریاں کی گئیں، جن میں سے 304 اہلکاروں کو سزائیں دی جا چکی ہیں جبکہ 7 اہلکاروں کو نوکری سے فارغ کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے حکم دیا کہ مشکوک شہرت والے افسران کو فوری طور پر ان کے اصل محکموں میں واپس بھیجا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے 'پیرا' کے اندرونی انٹیلی جنس اور 'وسل بلور' سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کرپشن کی اطلاع فوری مل سکے۔ اس کے علاوہ کلر کہار یا مری میں 'پیرا' کی اپنی ٹریننگ اکیڈمی بنانے کی تجویز منظور کرتے ہوئے اسے ایک سال میں مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔مریم نواز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ 'پیرا' کو ایک ایسی ڈیڈیکیٹڈ فورس بنایا جائے گا جس کا کام صرف ریگولیشن ہو۔ انہوں نے کہا کہ جو اہلکار اختیارات کے ناجائز استعمال میں پکڑا جائے اسے مثال بنا دیا جائے، کیونکہ پبلک سروس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔