برآمدات کے بغیر ترقی ممکن نہیں، ترسیلات اور قرضوں پر انحصار خطرناک ہے: ایس ایم تنویر

برآمدات کے بغیر ترقی ممکن نہیں، ترسیلات اور قرضوں پر انحصار خطرناک ہے: ایس ایم تنویر

لاہور: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے رہنما ایس۔ ایم۔ تنویر نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا بڑھتا ہوا انحصار ترسیلاتِ زر اور قرضوں سے چلنے والی کھپت پر ہے، جبکہ برآمدات کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جو معاشی ترقی کی رفتار کو شدید متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت تقریباً 60 ارب ڈالر کی اضافی برآمدی صلاحیت رکھنے کے باوجود اسے بروئے کار لانے میں ناکام ہے، جس کی بنیادی وجہ کمزور صنعتی بنیاد اور غیر مؤثر تجارتی پالیسیاں ہیں۔
ایس۔ ایم۔ تنویر کے مطابق، 1990 کی دہائی میں برآمدات کا جی ڈی پی میں حصہ 16 فیصد تھا جو 2024 میں کم ہو کر 10.4 فیصد رہ گیا ہے۔ انہوں نے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ویتنام میں یہ تناسب 95 فیصد، بنگلہ دیش میں 20 فیصد اور تھائی لینڈ میں 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کےرہنما نے نشاندہی کی کہ پیداواری لاگت میں اضافہ، توانائی کی بلند قیمتیں، محدود منڈیوں تک رسائی، کم پیداواری صلاحیت، ناقص لاجسٹکس اور کمزور انفراسٹرکچر پاکستان کی برآمدی مسابقت کو کمزور کر رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک کو برآمدات پر مبنی معاشی ماڈل اپنانے کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے، جن میں مارکیٹ ڈرِون ایکسچینج ریٹ، مضبوط ٹریڈ فنانسنگ، جدید لاجسٹکس، بہتر ریگولیٹری کمپلائنس اور مؤثر تجارتی معاہدے شامل ہیں۔
ایس۔ ایم۔ تنویر نے کہااگر ہم پائیدار ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں درآمدات اور ترسیلات پر انحصار کم کر کے برآمدی شعبوں میں سرمایہ کاری، ویلیو ایڈیشن اور جدت کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے حکومت، نجی شعبے اور پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ مشترکہ طور پر ایک طویل المدتی برآمدی حکمتِ عملی مرتب کریں تاکہ پاکستان کی معاشی صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال کیا جا سکے۔

ٹیگز: