لاہور : لاہور اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی ماحولیاتی ویب سائٹس کے مطابق، لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے، جہاں سموگ کی اوسط شرح 437 تک پہنچ گئی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق، لاہور کے مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) میں شدید اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ علامہ اقبال ٹاؤن کا اے کیو آئی 667، گورنمنٹ کالج کے اطراف 649، ساندہ روڈ 663، مراتب علی روڈ 605، پنجاب یونیورسٹی کے اطراف 554، ماڈل ٹاؤن 503، شالیمار 498 اور کینٹ کا اے کیو آئی 445 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اعداد و شمار ’’خطرناک زون‘‘ میں شامل ہیں اور شہریوں کی صحت کے لیے نہایت مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی فضائی آلودگی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ گوجرانوالہ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 639، فیصل آباد میں 460 اور ملتان میں 429 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر بھارت کے دارالحکومت دہلی کا ایئر کوالٹی انڈیکس 678 ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث دہلی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست ہے۔
ماحولیاتی ماہرین اور طبی ماہرین نے اس بات کی شدید تشویش ظاہر کی ہے کہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی شہریوں کے لیے صحت کے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں اور صبح کے اوقات میں کھلی فضا میں باہر جانے سے پرہیز کریں۔
دوسری جانب، موسم کے حوالے سے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، لاہور کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ کم سے کم 12 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہر میں ہوا کی رفتار 3 کلومیٹر فی گھنٹہ اور فضا میں نمی کا تناسب 80 فیصد ہے۔