عید الفطر کی تیاریوں کا آخری مرحلہ: بازاروں میں خریداروں کا سمندر، خواتین کا 'شاپنگ مشن' تاحال ادھورا

عید الفطر کی تیاریوں کا آخری مرحلہ: بازاروں میں خریداروں کا سمندر، خواتین کا 'شاپنگ مشن' تاحال ادھورا

لاہور/اسلام آباد: عید الفطر کی آمد آمد ہے اور ملک بھر میں تیاریوں کا سلسلہ اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔ چاند رات سے قبل بازاروں اور شاپنگ مالز میں تل دھرنے کی جگہ نہیں، جہاں شہری اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ تاہم، روایتی طور پر خواتین کا شاپنگ مشن آخری لمحات میں بھی مکمل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
بازاروں میں موجود خواتین کا کہنا ہے کہ اصل مرحلہ تو کپڑے خریدنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ لباس کی خریداری کے بعد اب میچنگ جیولری، چوڑیاں، مہندی اور سینڈلز کی تلاش کے لیے ایک بازار سے دوسرے بازار کا رخ کیا جا رہا ہے۔کئی خواتین کا کہنا ہے کہ "سب کچھ تو لے لیا، بس چھوٹی موٹی چیزیں رہ گئی ہیں" لیکن یہ فہرست ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
شاپنگ مالز میں سب سے زیادہ رونق بچوں کے سیکشن میں دیکھی جا رہی ہے جہاں 'میں نہ مانوں' کی تکرار عروج پر ہے۔    بچے اپنی من پسند رنگوں اور ڈیزائن کے جوتوں اور کھلونوں کے لیے والدین سے ضد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔    والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی خوشی ہی اصل عید ہے، اس لیے ان کی ہر جائز و ناجائز فرمائش پوری کرنی پڑ رہی ہے۔
درزیوں کی جانب سے بروقت جوڑے سلوانے سے معذرت اور 'بکنگ بند' کے بورڈز نے مردوں کو ریڈی میڈ گارمنٹس کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔   سلائی سے محروم مرد حضرات اب برانڈز اور لوکل مارکیٹس سے تیار شدہ کرتوں اور شلوار قمیض کی خریداری میں مصروف ہیں۔مردوں کا کہنا ہے کہ درزیوں کے نخروں سے بہتر ہے کہ تیار شدہ لباس لے کر عید کی تیاری مکمل کی جائے۔

ٹیگز: