لاہور: پنجاب اسمبلی نے قانون سازی کے میدان میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایک ہی روز میں 23 اہم بل کثرت رائے سے منظور کر لیے ہیں۔ ان بلوں کی منظوری سے سماجی تحفظ، تعلیم، ماحولیات اور انتظامی ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ایوان نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کی منظوری دے کر کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کی جانب بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس کے علاوہ حساس علاقوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہائی سکیورٹی زونز بل بھی منظور کر لیا گیا ہے۔ پنجاب فارنزک سائنس اتھارٹی کے قوانین میں ترامیم کے ذریعے مجرمانہ تحقیقات کے نظام کو جدید بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تعلیمی شعبے میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے قوانین میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔ اسی دوران جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے خوشخبری سناتے ہوئے رحیم یار خان میں چناب یونیورسٹی کے قیام کی منظوری بھی دے دی گئی ہے، جس سے خطے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آئیں گے۔
حکومت نے صوبائی محصولات میں اضافے اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل شعبوں میں نئے ضوابط کی منظوری دی ہے۔ نئے قواعد و ضوابط کے تحت ٹیکسوں کی وصولی کو مزید منظم کیا جائے گا۔ زمینوں کے ریکارڈ اور انتقال کے معاملات میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔
جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بھی اہم قانونی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کا مقصد صوبے میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا اور قدرتی وسائل کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔حکومتی ترجمان کے مطابق ایک ہی دن میں قانون سازی کا یہ بڑا ہدف مکمل کرنا عوامی خدمت کے ایجنڈے کی تکمیل کی جانب ایک بڑا سنگ میل ہے۔ ان قوانین کے نفاذ سے عام آدمی کو ریلیف ملے گا اور صوبے میں گورننس کا معیار بہتر ہوگا۔