لاہور: ڈرائیونگ ٹیسٹ میں سفارشی کلچر کے خاتمے اور معیار کی بہتری کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) بیسڈ وہیکل تیار کر لی گئی ہے۔ ٹریفک ہیڈ کوارٹر میں اس جدید گاڑی کے حتمی ٹیسٹ مکمل ہو گئے ہیں اور اگلے ماہ سے مختلف اضلاع میں ڈرائیونگ ٹیسٹ AI بیسڈ وہیکلز کے ذریعے لیے جائیں گے۔
ٹریفک حکام کے مطابق ان گاڑیوں میں سنسرز، کیمرے اور بائیومیٹرک مشینیں نصب ہوں گی، اور ڈرائیونگ ٹیسٹ مینول ٹریک کے بجائے جی پی ایس بیسڈ ٹریک پر لیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 33 گاڑیوں کی خریداری حتمی مراحل میں ہے، اور وصولی کے بعد انسٹالیشن مکمل کر کے ٹیسٹنگ سنٹرز میں فراہم کی جائیں گی۔
دوسرے مرحلے میں پنجاب کے ڈرائیونگ ٹیسٹنگ سنٹرز کے لیے گاڑیاں خرید کر فراہم کی جائیں گی، جس کا آغاز وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد ہوگا۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس اقدام سے ڈرائیونگ ٹیسٹ میں شفافیت بڑھے گی اور سفارشی کلچر ختم ہو جائے گا۔