پنجاب حکومت کا انتہا پسندی کے خلاف 'فیصلہ کن جنگ' کا اعلان: تین سالہ ایکشن پلان اور پالیسی منظور

پنجاب حکومت کا انتہا پسندی کے خلاف 'فیصلہ کن جنگ' کا اعلان: تین سالہ ایکشن پلان اور پالیسی منظور

لاہور :پنجاب حکومت نے شدت پسندی کے خاتمے اور پرامن معاشرے کے قیام کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کی زیرِ صدارت "پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلینٹ ایکسٹریمزم" (PCECVE) کے بورڈ آف گورنرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ادارے کے مستقبل کے حوالے سے کلیدی فیصلے کیے گئے۔اجلاس کے دوران ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور انتہا پسندی کے سدِباب کے لیے درج ذیل امور کی منظوری دی گئی۔
 شدت پسندی کے خلاف طویل مدتی حکمت عملی اور ایکشن پلان کی منظوری۔
 انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے جامع سٹریٹجی پیپر اور نئی پالیسی کو حتمی شکل دے دی گئی۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انتہا پسندانہ نظریات کا مقابلہ کرنے کے لیے ماہر کنسلٹنٹس کی بھرتی کی منظوری۔
 ادارے کی بلڈنگ کی بحالی اور تزئین و آرائش کے کام کا آغاز۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ انتہا پسندی کے خلاف اس جنگ میں صرف سکیورٹی ادارے ہی نہیں بلکہ تعلیم اور اطلاعات کے شعبے بھی بورڈ کا حصہ ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی اداروں اور میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کی فکری تربیت کرنا ہے۔
صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایک پرامن معاشرے کا قیام اور ریاست کی بقا صرف اسی صورت ممکن ہے جب ہم انتہا پسندی کا جڑ سے خاتمہ کریں۔ یہ ہماری آنے والی نسلوں کے تحفظ کی جنگ ہے۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے معاشرے میں امن، بھائی چارے اور رواداری کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فکری محاذ پر انتہا پسندی کو شکست دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ٹیگز: