لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب میں کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا 53 واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزرا خواجہ سلمان رفیق، بلال یاسین، بلال اکبر خان اور سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں کوئٹہ بم دھماکے کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس کے دوران صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹیوں کے اجلاس بلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فورتھ شیڈولرز اور مشکوک افراد کی کڑی نگرانی یقینی بنائی جائے۔ صوبائی وزیر بلال یاسین نے تاکید کی کہ مویشی منڈیوں کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت نظر رکھی جائے اور لاؤڈ سپیکر کے غیر قانونی استعمال پر زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جائے۔
صوبائی وزیر بلال اکبر خان نے واضح کیا کہ عیدالاضحیٰ پر قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کے حوالے سے کالعدم تنظیموں کی سخت مانیٹرنگ کی جائے اور تحصیل سطح پر امن کمیٹیوں اور علمائے کرام کو متحرک کیا جائے۔
سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب بھر میں 38,507 عید اجتماعات ہوں گے جن کی حفاظت کے لیے جامع سکیورٹی پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے تمام اضلاع کو 'ہوٹل آئی' اور 'ٹریول آئی' سافٹ ویئرز کے ذریعے سو فیصد مانیٹرنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی یا فرقہ واریت پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔