لاہور : آئی جی پنجاب عبدالکریم کی جانب سے پولیس ملازمین اور ان کے اہلخانہ کے مسائل کے حل کے لیے ملاقاتوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ آئی جی پنجاب نے پولیس دربار اور خصوصی ملاقاتوں کے دوران ملازمین اور ان کی فیملیز کے مسائل سنے اور موقع پر ہی امداد و ریلیف کے احکامات جاری کیے۔
آئی جی پنجاب نے ریٹائرڈ اور دورانِ سروس وفات پانے والے اہلکاروں کے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے درج ذیل ہدایات دیں۔ ریٹائرڈ سب انسپکٹر سراج دین اور مرحوم ہیڈ کانسٹیبل جاوید اقبال کے بیٹوں کی بھرتی کی درخواستوں پر ایڈیشنل آئی جی اور ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ ٹو کو فوری کارروائی کا حکم دیا۔
ریٹائرڈ کانسٹیبل حبیب اللہ کے بیٹے کی بھرتی کے لیے عمر کی حد میں رعایت کی درخواست پر مثبت فیصلے کی ہدایت کی۔ ہیڈ کانسٹیبل صدام طارق کی ضلع واپسی کی درخواست کو ہمدردی کے ساتھ زیر غور لانے کے لیے ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ ٹو کو ٹاسک سونپ دیا گیا۔پولیس شہداء اور مرحومین کے اہلخانہ کی مالی معاونت کے لیے درج ذیل اقدامات اٹھائے گئے۔ مرحوم ہیڈ کانسٹیبل نذر حسین کی بیوہ کی درخواست پر ڈی آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس کو فوری ریلیف فراہم کرنے کا حکم دیاگیا۔
مرحوم کانسٹیبل غلام حسین کی بیوہ کی جانب سے بچوں کے تعلیمی اخراجات کے لیے سکالرشپ کی درخواست منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی گئیں۔آئی جی پنجاب عبدالکریم نے ملاقاتوں کے دوران ڈسپلن، ایڈمنسٹریشن، پروموشن اور ویلفیئر سے متعلق دیگر درجنوں درخواستوں پر بھی فوری احکامات جاری کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار میرا خاندان ہیں اور ان کے مسائل کا حل میری اولین ترجیح ہے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ عوام کی خدمت کر سکیں۔