لاہور : پاکستان ایسوسی ایشن آف میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹی ٹیوشنز (PAMI) کے صدر پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے سینٹرل انڈکشن پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک میں طبی تعلیم کی تباہی کا "منصوبہ" قرار دے دیا ہے۔ ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غلط حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے میڈیکل کالجز کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ایم ڈی کیٹ اور سینٹرل انڈکشن کے نام پر میرٹ کا لبادہ اوڑھ کر درحقیقت میرٹ کا جنازہ نکالا جا رہا ہے؛ 1 لاکھ 32 ہزار امیدواروں کی موجودگی میں میڈیکل کالجز کی سیٹیں خالی رہنا نااہلی نہیں تو اور کیا ہے؟۔پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم ڈی سی انفراسٹرکچر دیکھ کر کوٹہ الاٹ کرتی ہے، مگر سینٹرل انڈکشن نے ایسا بحران پیدا کیا کہ اب میڈیکل کالجز کی سیٹیں خالی پڑی ہیں، جو کہ ایک قومی جرم ہے۔ ایک ہی طالب علم کو ایف ایس سی اور ایم ڈی کیٹ کے الگ الگ ترازو میں تولنا ناانصافی ہے۔ ایم ڈی کیٹ صرف میرٹ کے لیے ہوتا ہے، اسے فیل یا پاس کا ذریعہ بنا کر ہزاروں بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا۔سینٹرل انڈکشن سے لوگوں کا اعتماد ختم ہو چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر سال 7 ہزار بچے ملک چھوڑ کر بیرون ملک جا رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں ڈاکٹرز کی شدید قلت ہے۔
صدر پامی نے وفاقی وزیر صحت اور نائب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اس "مصنوعی کرائسز" کا فوری نوٹس لیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوالٹی سٹینڈرڈ کے نام پر نجی کالجز کو بلیک میل کرنا اور فیسوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنا بند کیا جائے۔اساتذہ اور مالکان کو انتظامی کاموں کے لیے شہر شہر خوار کرنے کے بجائے نظام کو سہل بنایا جائے۔ہیلتھ ریفارمز کمیٹی پامی کے ساتھ بیٹھ کر پالیسیوں پر نظرثانی کرے، ورنہ ملک میں نجی میڈیکل کالجز کا وجود ختم ہو جائے گا۔