سولر صارفین کے لیے ’گرین میٹر‘ ڈراؤنا خواب بن گیا؛ ٹیکنیکل خرابی یا دانستہ لوٹ مار؟ ایکسپورٹ یونٹ زیرو ہونے سے لاکھوں کے بل جاری

 سولر صارفین کے لیے ’گرین میٹر‘ ڈراؤنا خواب بن گیا؛ ٹیکنیکل خرابی یا دانستہ لوٹ مار؟ ایکسپورٹ یونٹ زیرو ہونے سے لاکھوں کے بل جاری

لاہور : ملک بھر میں مہنگی بجلی سے تنگ آکر سولر سسٹم لگوانے والے صارفین اب ایک نئی مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔ لیسکو سمیت مختلف تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کے سولر صارفین کو "ٹیکنیکل طریقے" سے لوٹے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں بجلی فراہم کرنے کے باوجود ایکسپورٹ یونٹس کا ریکارڈ غائب ہونے لگا ہے۔
سولر صارفین کی بڑی تعداد نے شکایت کی ہے کہ ان کے نیٹ میٹرنگ والے بلوں میں امپورٹ یونٹس (جو بجلی گرڈ سے لی گئی) کی ریڈنگ تو پوری چارج ہو رہی ہے، لیکن جو بجلی ان کے سولر سسٹم نے گرڈ کو فراہم کی یعنی ایکسپورٹ یونٹس، وہ ریڈنگ بلوں میں "زیرو" (0) دکھائی جا رہی ہے۔
ایکسپورٹ یونٹس زیرو چارج ہونے کی وجہ سے صارفین کو بجلی کے بلوں میں ملنے والا ریلیف ختم ہو گیا ہے اور انہیں ریورس میٹرنگ کے بجائے لاکھوں روپے کے بھاری بل وصول ہو رہے ہیں۔ متاثرہ صارفین کا کہنا ہے کہ میٹر میں ریڈنگ موجود ہونے کے باوجود بلنگ سافٹ ویئر یا مینوئل ریڈنگ کے دوران ان کے یونٹس کو شامل نہیں کیا جا رہا، جو کہ کھلی ڈکیتی کے مترادف ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ یا تو میٹرنگ سافٹ ویئر میں دانستہ تبدیلی ہے یا پھر "گرین میٹرز" میں پیدا ہونے والی کوئی ٹیکنیکل خرابی، جس کا خمیازہ ان صارفین کو بھگتنا پڑ رہا ہے جنہوں نے لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کر کے سولر سسٹم لگائے ہیں۔

ٹیگز: