پنجاب میں 'ریڈ زونز' کا قیام: ہائی سکیورٹی زونز میں احتجاج پر پابندی کا بل اسمبلی میں پیش

پنجاب میں 'ریڈ زونز' کا قیام: ہائی سکیورٹی زونز میں احتجاج پر پابندی کا بل اسمبلی میں پیش

لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے وفاق کی طرز پر "پنجاب ہائی سکیورٹی زونز (اسٹیبلشمنٹ) ایکٹ 2026" متعارف کروا دیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت صوبے کے حساس علاقوں کو "ہائی سکیورٹی زون" قرار دے کر وہاں کسی بھی قسم کے احتجاج یا دھرنے کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔
پنجاب اسمبلی میں پیش کیے گئے بل کے مطابق سکیورٹی زونز کے تعین کے لیے ایک منظم طریقہ کار وضع کیا گیا ہے ۔ صوبائی اور ضلعی سطح پر خصوصی انٹیلی جنس کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ ضلعی کمیٹی اپنے علاقے کے حساس مقامات کی نشاندہی کرے گی، جس کی بنیاد پر صوبائی کمیٹی سیکرٹری متعلقہ علاقے کو "ہائی سکیورٹی زون" قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔
اس ایکٹ کا سب سے اہم پہلو احتجاجی مظاہروں پر قدغن لگانا ہے۔ بل کے مطابق     کسی بھی نوٹیفائیڈ ہائی سکیورٹی زون میں احتجاج کرنے والوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔    ان زونز میں داخلے کی کوشش یا قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدام اہم سرکاری دفاتر، غیر ملکی سفارت خانوں اور حساس تنصیبات کو احتجاجی سیاست اور امن و امان کے ممکنہ بگاڑ سے محفوظ رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس قانون کے نافذ ہوتے ہی پنجاب کے بڑے شہروں میں اسلام آباد کے 'ریڈ زون' جیسا ماڈل نافذ ہو جائے گا، جہاں احتجاج کے لیے جگہ کا تعین انتظامیہ کی صوابدید پر ہوگا۔

ٹیگز: