لاہور: پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے بھر کی عدالتوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے منصوبے پر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔ انرجی ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے یہ منصوبہ پنجاب انرجی ایفی شنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی کے ذریعے جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔
منصوبے کی مجموعی لاگت 3 ارب 4 کروڑ 15 لاکھ روپے ہے، جس میں سے 2 ارب 87 کروڑ روپے سے سولر پینلز اور دیگر مشینری خریدی جائے گی، جبکہ 6 کروڑ روپے کنسلٹنسی، 60 لاکھ روپے گاڑیوں کے کرائے، 30 لاکھ پیٹرول، اور ایک کروڑ روپے ٹی اے ڈی اے پر خرچ کیے جائیں گے۔ ہنگامی اخراجات کے لیے 8 کروڑ 62 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
منصوبے کے مطابق لاہور کی ضلعی عدالتوں، ماڈل ٹاؤن اور کینٹ کچہری میں بھی کروڑوں روپے کے اخراجات ہوں گے۔ سولر پینلز کی تنصیب سے عدالتوں کو سالانہ ایک ارب 63 کروڑ روپے کی بجلی کی بچت ہوگی۔