اسلام آباد : وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کے 6 نکاتی انقلابی اصلاحاتی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ادارے کی مکمل ری اسٹرکچرنگ کا عمل آخری مراحل میں ہے اور نیا آپریٹنگ ماڈل یکم جولائی 2026 سے باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔ایم ڈی این جی سی انجینئر الطاف حسین ملک نے بریفنگ کے دوران ان 6 اہم اسٹریٹیجک تبدیلیوں کی تفصیلات پیش کیں جو ادارے کو جدید خطوط پر استوار کریں گی۔اس میں تیز رفتار پروجیکٹ مینجمنٹ: بجلی کے منصوبوں کی بروقت اور برق رفتار تکمیل، ادارے کے اندر مالی نظم و نسق اور سخت احتسابی نظام کا قیام، ریگولیٹری باڈیز اور دیگر اداروں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی کے لیے خصوصی ٹیمیں، ادارے کے آپریشنز میں عالمی معیار کے حفاظتی اصولوں کا نفاذ، دفتری پیچیدگیوں کو ختم کر کے کام کے طریقہ کار کو سہل بنانا، ریئل ٹائم ڈیٹا مانیٹرنگ اور جدید ٹیکنالوجی کا ہمہ گیر استعمال شامل ہے۔
وفاقی وزیر سردار اویس لغاری نے اصلاحاتی عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "این ٹی ڈی سی (NTDC) کے 1998 سے چلے آنے والے فرسودہ ڈھانچے کو تبدیل کرنا وقت کی ضرورت تھی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ این جی سی پاور سیکٹر کا ایک کلیدی ادارہ ہے اور اس کی مضبوطی سے ہی ملک میں بجلی کی محفوظ اور قابلِ اعتماد ترسیل ممکن ہو سکے گی۔
بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ جنوری 2026 میں شروع ہونے والے اس مشن کے تحت اہم انتظامی تقرریاں مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ دسمبر 2026 تک ادارہ مکمل طور پر ڈیجیٹل اور آپریشنل استحکام حاصل کر لے گا۔ یہ اصلاحات ایم ڈی الطاف حسین ملک کی قیادت میں کی جا رہی ہیں، جو یوٹیلیٹی مینجمنٹ میں وسیع بین الاقوامی تجربہ رکھتے ہیں۔