’’2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں‘‘ کے موضوع پر اہم آگاہی سیشن ،چیئرمین ایپ سپ پروفیسرڈاکٹر چودھری عبدالرحمان کا خطاب

’’2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں‘‘ کے موضوع پر اہم آگاہی سیشن ،چیئرمین ایپ سپ پروفیسرڈاکٹر چودھری عبدالرحمان کا خطاب

پشاور :  رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ حیات آباد پشاور میں ایپ سپ کے زیر اہتمام ’’2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں‘‘ کے موضوع پر ایک اہم آگاہی سیشن منعقد کیا گیا، جس میں پاکستان کے تعلیمی اور صحت کے شعبوں میں پرائیویٹ سیکٹر کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ سیشن کے مہمانِ خصوصی میاں عامر محمود، چیئرمین پنجاب گروپ، نے شرکت کی۔

ایپ سپ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج کا دن خیبرپختونخوا کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کیونکہ میاں عامر محمود نے پاکستان کے تعلیمی شعبے میں جو بے مثال کام کیا ہے، وہ ہمارے لیے باعث فخر ہے۔‘‘ انہوں نے میاں عامر محمود کی قیادت میں 400 سے زائد کالجز اور تین بہترین یونیورسٹیاں قائم کرنے کے شاندار کارنامے کو سراہا۔

پروفیسرڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے مزید کہا کہ ’’پامی ہر سال 11 ہزار میڈیکل گریجویٹس پیدا کر رہی ہے اور عوام کو 40 ہزار بیڈز پر کم قیمت پر مفت علاج فراہم کر رہی ہے۔ اگر پرائیویٹ سیکٹر نہ ہوتا تو آج پاکستان میں صحت کی سہولتوں کا برا حال ہوتا۔‘‘

انہوں نے گورننس ماڈل کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ہم اپنے ملک کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں سچائی اور ایمانداری کے راستے پر چلنا ہوگا۔ ہمیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو رول ماڈل کے طور پر اپنانا چاہیے تاکہ ہم اپنی زندگیوں میں کامیابی حاصل کر سکیں۔‘‘

پروفیسرڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے ایپ سپ کی کاوشوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ’’ایپ سپ نے اس قدم کو اٹھایا جس پر ہم شکر گزار ہیں، اور مجھے امید ہے کہ رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ کو خیبرپختونخوا کی تاریخ میں اسی طرح یاد رکھا جائے گا جیسے علی گڑھ یونیورسٹی کو یاد رکھا جاتا ہے۔‘‘

آخر میں، پروفیسرڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ ’’اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے محنت کریں اور اپنی سوچ کو بدلیں۔ پاکستان نوجوانوں کا ملک ہے، اگر ہماری یوتھ نے سوچنا شروع کر دیا تو تبدیلی ضرور آئے گی۔‘

ٹیگز: