لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے میں زرعی انقلاب لانے اور فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ پنجاب حکومت نے صوبے بھر کی بنجر اور غیر آباد زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے ’’وزیراعلیٰ پروگرام برائے قابلِ کاشت بنجر اراضی کی بحالی‘‘ شروع کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کر لیا ہے۔
اس دور رس منصوبے کا مقصد زراعت کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اور کسانوں کی خوشحالی ہے۔ منصوبے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں،اس عظیم الشان منصوبے پر 1 ارب 55 کروڑ 75 لاکھ روپے کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔ یہ منصوبہ 36 ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا اور اس کی مکمل تکمیل جون 2029 تک متوقع ہے۔
صوبے کے ان تمام علاقوں کی نشاندہی کرنا جہاں زمینیں پانی یا وسائل کی کمی کے باعث بنجر پڑی ہیں اور انہیں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کاشت کاری کے قابل بنانا۔ماہرینِ زراعت کا ماننا ہے کہ اس منصوبے سے پنجاب کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کے زیرِ کاشت آنے سے گندم، کپاس اور دیگر اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوگا۔ بنجر زمینوں کی بحالی سے دیہی علاقوں میں ہزاروں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
اس پروگرام کے تحت کاشتکاروں کو بنجر زمین ہموار کرنے اور اسے تیار کرنے کے لیے حکومتی سطح پر معاونت فراہم کی جائے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، وزیراعلیٰ پنجاب کا وژن ہے کہ صوبے کا کوئی بھی حصہ غیر پیداواری نہ رہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف صوبے کو زرعی طور پر خود کفیل بنائے گا بلکہ ملکی برآمدات میں اضافے کا باعث بھی بنے گا۔